چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی خوائش پر آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ قائد حزب ختلاف آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر (سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ ) 307

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی خوائش پر آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ قائد حزب ختلاف آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

پانچ اگست 2019مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے آئینی دہشت گردی اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نام نہاد سفیر کشمیر کی مکمل خاموشی اور آزاد کشمیر کے اندرعوامی رائے کو بلڈوز کرتے ہوئے کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنا تقسیم کشمیر کی راہموار کی سازشوں کوناکام بنانے کے لیئے تحریک آزادی کشمیر کے بیس کمیپ میں مضبوط آواز کا اسمبلی میں ہونا ناگزیر تھا جس کی وجہ سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہ چاہتے تھے کے میں بطور اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں کردار ادا کروں جس طرح میں نے پانچ سال بطور پارٹی صدر کشمیری اعوام کے حقوق کی جنگ لڑی اسی طرح اب اسمبلی اس کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کر کے کشمیری اعوام کے حقوق تحفظ کیا جا سکے،آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی بڑی سیاسی قوت ہے اعوام کے حق کے لیئے اسمبلی کے اندر باہر جنگ لڑیں گے جس طرح سابق حکومت کے اعوام دشمن فیصلوں کو ہم نے عدالتوں میں جا کر روکا اور تعلیمی پیکج کی جنگ لڑھ کربچوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا ہم نے گزشتہ پانچ سالوں میں ہر حلقہ میں ورکرز کنوشن کر کے آزاد کشمیر میں پارٹی کومضبوط کیاجنرل الیکشن میں دو حکومتوں سے مقابلہ کیا اور گیارہ سیٹیں حاصل کی میرے دور صدارت میں جس طرح کشمیریوں نے پیپلزپارٹی پر اعتماد کیاگیارہ سیٹوں پر کامیابی دی ہم انکے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے،کشمیر کے حوالہ سے جو سازشیں ہو رہی ہیں اس کے لیئے ہم کو ایک ہونا ہو گا،تا کے آزاد کشمیر میں اس کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کیا جاسکے بلکے جو کشمیر کے حوالہ سے سازشیں ہو رہی ان کو بھی ناکام بنایا جائے اس وقت اسمبلی میں مضبوط اپوزیشن ہے اور قدار آور لوگ اپوزیشن میں ہیں،،کشمیر اعوام نے اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے ڈٹ کر دو حکومتوں کا مقابلہ کیا پیپلزپارٹی کے چھے ساتھ سیٹوں پرامیدوار چند سو ووٹوں سے ہارے ہیں،یہ ایک سازش کی تحت انکی جیت کو شکست میں بدلہ گیا،پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر میں شکست ہوئی مہاجرین کے حلقوں سے کچھ سیٹیں حاصل کر کے ایک انتشار والی حکومت بنائی ہے جو چلتی نظر نہیں آتی،پاکستان میں جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے تو کشمیر کے حوالہ سے ہمارے تحفضات پیدا ہوئے پانچ اگست والے واقع کے بعد ایک تقریر کرکے اور جمعہ جمعہ ایک گھنٹہ خاموشی اختیار کر کے مکمل خاموش ہو گئے،اس کے بعد گلگت کے حوالہ سے کچھ باتیں سامنے آنا شروع ہو گئی جس پر کشمیریوں کو سخت تحفضات تھے،ان صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے میرا انتخاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے کیا جس پر فخر محسوس کرتا ہوں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور کامجھے بطور قائد حزب اختلاف کی ذمہ داریاں دینے پر شکر گزار ہوں 2006 میں شہید بی بی نے فیصلہ کیا تھا کہ صدر اور قائد حزب اختلاف کے دونوں عہدوں کو الگ کیا جائے گا اسی فیصلہ کے مطابق صاحبزادہ اسحاق ظفر کو قائد حزب اختلاف اور چوہدری عبدالمجید کو پی پی پی اے جے کے کا صدر نامزد کیا گیاتھااسی طرح اب میں اپوزیشن لیڈر اور چوہدری یاسین پیپلزپارٹی کے صدر ہوں گیا انشاء اللہ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنی پوری کوشش کروں گا اور اپنی قیادت اور آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی توقعات پر پورا اتروں گاہم نے پانچ سال اسمبلی سے باہر ہو کر جس طرح کشمیری اعوام کی جنگ لڑئی اسی طرح اب اسمبلی کے فورم پر بھی اعوام کے حقوق کا دفاع کیا جائے گا،اس حکومت کو ہر فورم پر ٹف ٹائم ملے گا یہ حکومت قائم ہوتے ہی جس طرح غلطیاں کر رہی ہے اس سے عوام کا نقصان ہوتا نظر آرہا ہے ہم نے عوامی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں