پاکستان ترسیل میت کمیٹی سعودی عرب کے زیر انتظام ایک پروگرام منقعد کیا گیا 289

پاکستان ترسیل میت کمیٹی سعودی عرب کے زیر انتظام ایک پروگرام منقعد کیا گیا

سعودی عرب ( دامام رپورٹ – سردار صغیر برقی ، تازہ اخبار، پاک نیوز پوائنٹ)

پروگرام آرگنائزر صدر کمیٹی حیات خان نے کیا۔مہمان خصوصی نوجوان کمیونٹی ویلفیئر اتاشی پاکستان ایمبسی الریاض ملک ابوبکر صاحب تھے ان کے ساتھ لیگل ایڈوائزر قاضی عبدالکریم نے بھی شرکت کی ۔پاکستان ترسیل کا آغاز باقائدہ تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی حافظ عبداللہ عابدسعادت نے حاصل کی ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض طالب کیانی نے انجام دیے ۔ملک پرویز اختر نے مہمان خصوصی کو اور تمام آنے والے مہمانوںکو بھی خوش آمدید کہا ۔اجلاس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر حنیف خان چیئرمین ترسیل کمیٹی نے پاس نامہ پیش کیا انھوں نے کہا کہ یہاں سعودی عرب میں بہت کمیٹیاں ہیں اپنے اپنے علاقے کی ہر علاقے کی ۔مگر یہ پہلی کمیٹی ھےجو پاکستان کا نقشہ پیش کررہی ہے جس میں تمام پاکستانی شامل ہیں اس میں سب صوبوں کی نمائندگی ہو ر ہی ہے بشمول آزاد کشمیر اوراس کانام بھی اسی حوالے سے رکھا گیا پاکستان ترسیل میت ۔یہاں زیادہ تر لبیر ہیں اور آزاد کام کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی کی وفات ہو جائے تو بہت مشکل پیش آتی ہے میت کو پاکستان ترسیل بھی نھیں کر سکتے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ۔سب سے پہلے ہسپتال کا بل اگر ایکسیڈنٹ ہونے یا بیمار ہونے کی وجہ سے فوت ہو گیا تو ہسپتال کا بل 50 ہزار سے ایک لاکھ تک ہو جاتا ہے اس کے علاوہ میت کی ترسیل کا خرچہ کم از کم 12 ہزار ریال لگتا ۔ان سب مسائل کو دیکھتے ہوئے پاکستان ترسیل میت کمیٹی بنائی گی ہے اس حوالے سے ہم بھی کچھ کریں گے اور ایمبسی بھی ہماری مالی مدد کرے یہ کام کسی ایک کے بس کا نھیں ہے سب نے مل جل کر چلنا ہو گا ۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ دمام ریجن میں کونسل خانہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی مشکلات درپیش ہیں کسی نےپاسپورٹ شناختی کارڈ یاپاروآف اٹھارنی لیٹر بنوانا ہو تو اسے ریاض جانا پڑتا ہے ایک کمپنی چھٹی نھیں دیتی دوسرا اس پر خرچہ بہت آتا ہے ریاض جانے آنے میں یک طرفہ سفر 5سو کلو میٹر ہے ۔ ڈاکٹر حنیف خان نے مزید کہا کہ جو لوگ چھٹی گے ہیں ان کا ویکسینشن کا پرابلم ہے اور ان کے پاس اتنے وسائل نھیں کہ وہ دوسرے ملک ہو کر واپس اپنی جاب پر پہنچ سکیں ۔ اس حوالے سے ایمبسی کیا کام کر رہی ہے ، نئے ویزوں کا اجراء کیا جائے ۔مہمان خصوصی ویلفیئر اتاشی ملک ابوبکر نے پاکستان ترسیل میت کمیٹی کے کام کو سرا اورکہا جہاں تک ممکن ہو سکا ایمبسی آپ کی قانونی مدد ضرور گی جہاں تک کونسل خانہ کا تعلق ہے کونسل خانہ دمام کھولنے کے لیے اس پر کام ہو رہا ہے پروسس جاری ہے ان شاء اللہ سال چھے ماہ تک کام ہو جائے گا ۔ اس سوال کیا گیا کے بہت سے لیبر ہیں جن کو کفیل ہروب لگا دیتے ہیں اور کچھ پر ہروب مطلوب اس پر ایمبسی ہماری کیا مدد کر سکتی ہے ۔ اس کے جواب میں لیگل ایڈوائزر قاضی عبدالکریم نے کہا یہاں بہت سی لبیر ہے جو آزاد ویزوں پر آ کر کام کر رہے ہیں اب آزاد ویزہ کا کنسپٹ ختم ہو چکا ہے آزاد ویزہ نہ پہلے تھا نہ اب ہے یہ صرف عامل اور کفیل کے درمیان زبانی کلامی معائدہ ہوتا ہے اس کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے قانونی یہی ہے وہ جس ویزے پر جس کفیل کے پاس آئے اسی کے پاس کام کرے رہے ہو۔ جس بھی کمپنی و کفیل کے پاس کام کر رہے ہیں کوشش کریں کے خروج نہائی لگ جائے بھاگنے سے کام نھیں چلتا ، اگر پھر بھی ہروب لگ گیا ھے تو 15 دن کے اندر اندر کفیل ہروب ختم کر سکتا ھے 15 دنوں کے بعدایک سال کے اندر قانونی طریقے ہی ختم ہو سکتا ۔ایک اور سوال کیا گیا ھے کہ ایک فیملی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس کا علاج المانا ہسپتال میں علاج میں ہوا انھوں نے علاج کے بعد فیملی ڈیجارچ کر دیا چھ ماہ کے بعد ہسپتال والوں نے کیس کر دیا کہ 250 لاکھ ریال دیں ۔ پھر انھوں نے کہا کم از کم 1 لاکھ ریال جمع کروا دیں ۔ اس پر قاضی عبدالکریم نے کہا آپ مجھے اپنے مکمل ڈاکومنٹ دیں ۔ ہم سے جو بھی ھو سکا ہم آپ کی مدد کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں