گزشتہ روز جاگو تحریک کے زیر اہتمام ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ (رپورٹ فاطمہ قمر صدر شعبہ خواتین پنجاب پاکستان جاگو تحریک،پاک نیوز پوائنٹ) 307

گزشتہ روز جاگو تحریک کے زیر اہتمام ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

(رپورٹ فاطمہ قمر صدر شعبہ خواتین پنجاب پاکستان جاگو تحریک،پاک نیوز پوائنٹ)

گزشتہ روز جاگو تحریک کے زیر اہتمام ایک فکری نشست بعنوان “تعلیم میں تربیت کا فقدان” اس نشست کے میزبان خصوصی جاگو تحریک کے مرکزی رہنما’ بہت قومی سوچ کے حامل ‘ اوگرا کے سابق چئیرمین محترم توقیر صادق صاحب تھے۔ ہم نے اس نشست کے اہتمام و انعقاد میں ان کی معاونت کی۔ یہ نشست محترم توقیر صادق صاحب کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوئئ۔ اس نشست کی سب سے قابل ذکر بات محترم ظفر صراف صاحب جو جاگو تحریک کے مرکزی نائب صدر ہیں وہ ہشاور سے خصوصی طور پر ہماری دعوت پر اس مجلس میں شریک ہوئے! محترم ظفر صراف صاحب پاکستان کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے انتہائی درد مند دل رکھتے ہیں۔ اور معاشرے سے معاشرتی جمود ( سٹیٹس کو) کے خاتمے کے لئے انتہائی فکر مند ہیں۔ انہوں نے اس نشست کے عنوان کے حوالے سے اپنی تربیت کے سلسلے میں اپنی والدہ مرحومہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس فکری نشست کے شرکاء میں جاگو تحریک پنجاب خواتین کی صدر فا طمہ قمر’ سینئر نائب صدر پروفیسر ہمالہ خالد ‘ نائب صدر شیریں گل رانا’ اورنگزیب رانا’ سیکرٹری جنرل آمنہ اطہر’ ریحانہ شبیر’ دعا ہاشمی ‘ پروفیسر سلیم ہاشمی’ پروفیسر تنویر صادق’ ڈاکٹر صادق’ ڈاکٹر شاہد مسعود خان’ ڈاکٹر جاوید اقبال’ ایڈووکیٹ رانا امیر احمد خان’ طیب احمد’ مزمل بخاری نے شرکت کی۔ مقررین کی اکثریت نے تربیت کے عمل میں ماں کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ دنیا میں جتنی بھی عظیم شخصیت گزری ہیں ان کے کردار میں ان کی ماؤں کا ہاتھ تھا۔ ماں کے بعد فرد کی تربیت میں دوسرا اہم کردار استاد کا ہے ۔ پروفیسر جاوید اقبال نے کہا کہ دنیا کا کوئی فلسفی ‘ کوئی مذہب بچوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ پروفیسر تنویر صاڈق صاحب نے کہا کہ یہ عنوان بہت وسعت و جامعت کا حامل ہے اسے ایک نشست میں نہیں سمیٹا جاسکتا۔ اس عنوان کے احاطے کے لئے بہت سی نشستیں درکار ہیں ۔ پروفیسر سلیم ہاشمی نے کہا ہمارے دور طالبعلمی میں سب سے زیادہ مار طلباء کو انگریزی کے مضمون میں پڑتی تھی ۔ اب جب کہ تمام تعلیم انگریزی میں ہے تو آپ اس سے طلباء کی تعلیم میں دلچسپی کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ جب بچہ سبق نہیں یاد کرے گا تو استاد پھر اس کی تدریس و تربیت کے لئے کیا کرسکتا ہے؟ پروفیسر ہمالہ خالد ‘ شیریں گل رانا ‘ پروفیسر آمنہ اطہر نے تربیت کے عمل میں ماؤں کے کردار کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بیان کیا۔ فاطمہ قمر نے کہا کہ بلاشبہ تربیت کے عمل میں ماؤں کا کردار سب سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے محمد بن قاسم’ صلاح الدین ایوبی’ علی برادران کی تربیت ان کی والدہ ہی نے کی جنہوں نے تاریخ کا رخ بدلا ہے۔ لیکن اس وقت معاشرے کی بگاڑ میں انگریزی ذریعہ تعلیم سب سے بڑا بگاڑ پیدا کرنے کا عنصر ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم سے ہم زبان نہیں سیکھ رہے ہم ان کی تہذیب سیکھ رہے ہیں۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے آج ہمارے بچوں کے ہیرو خلفائے راشدین’ مسلم سپہ سالار محمد بن قاسم’ صلاح الدین ایوبی’ موسی بن نصیر’ باعلی سینا ‘ ابن الہیثم نہیں ہیں آج ان کے ہیرو سپر مین’ بیٹ مین’ پیٹ مین’ ائرن مین’ ٹارزن وغیرہ ہے’ زبان صرف زبان نہیں ہے زبان تہذیب کا دروازہ ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم ہی کی بدولت اساتذہ کی تذلیل کا سلسلہ شروع ہوا جو انگریزی میڈیم تعلیمی اداروں کی دین ہےوہاں سے یہ سلسلہ سرایت کرتا ہوا سرکاری تعلیمی اداروں کے صدر دروازے پر “مار نہیں پیار” تک جاپہنچا۔ جہاں طلباء کی تربیت کے سلسلے میں فہمائش ‘ ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے اساتذہ کی شکایت کے سرکاری رابطہ نمبر بھی آویزاں کئے گئے۔ جب آپ نے تعلیم کے تربیتی عمل میں اساتذہ کی تذلیل شروع کی تو اس کے ہولناک نتائج معاشرے بکی زبوں حالی’ لاقانونیت’ بزرگوں کے ساتھ بدتمیزی ‘ گستاخ معاشرتی رویوں کی صورت میں وقوع پذیر ہونے۔ ناک ‘ کان گلہ ( ای این ٹی) کے ماہر ڈاکٹر شاہد مسعود خان نے تربیت کے سلسلے میں ماں اور بیٹی کی تربیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی کی تربیت پر جو اجر ہے وہ بیٹے کی تربیت پر نہیں ہے۔ محترمہ ریحانہ شبیر صاحبہ نے اپنی شاعری کی کتاب بہت محبت سے ہمیں پیش کی۔ اور اپنے قیمتی خیالات سے نوازا’ ایڈوکیٹ رانا امیر احمد خان نے نشست کے عنوان کو بہت خراج تحسین پیش کیا۔تربیت کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات پیش کئے! یہ ایک بھرپور تقریب تھی۔ جاگو تحریک کے بانی قیوم نظامی صاحب اپنی علالت کے باعث تقریب میں شرکت نہ کرسکے ۔ اس نشست میں معروف ادیب’ کالم نویس’ استاد ڈاکٹر اجمل نیازی کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئ ۔ اس نشست میں محترم توقیر صادق صاحبہ کی ہمشیرہ پروفیسر نے بطور خاص شرکت کی۔ نشست کے اختتام پر بیگم انیلہ توقیر صادق نے انتہائی پرتکلف چائے سے تمام شرکاء کی تواضع کی۔ نشست کے اختتام پر اس نشست کے محرک و میزبان خصوصی محترم توقیر صادق نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اپنی اہلیہ محترمہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا کہ ان خاتون خانہ کے تعاون ہی سے اس خوبصورت نشست کا اہتمام ہوا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں