معین بلوچ کی کافی،عہدِ حاضر کا تصوف اور اجتماعی بے حسی
کالم نگار پروفیسر محمد رزاق امن وٹو : پی این نیوز ایچ ڈی
” اتھ اوکھا ہک ہک ساہ”
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
اتھ کتا پاڑے چاننی،پٹھ پچھے بادشاہ
کوئی مٹھا بول نہ پیار دا اتھ بندے زہر بھرے
ساڈے سر چڑھ چڑھ اتھ بولدے اج بدل قہر بھرے
کیتے لوہڑے گھر ساڈے پانیاں کیتے بدل پھٹ پیا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
کسے ہتھ وچ خالی کاسڑے کسے ہتھ وچ کالا دھن
سانوں لٹیا ساڈے حاکماں سانوں سادھاں لائی سن
اج تک کے ساڈیاں ارتھیاں لے ہونی پیر جما
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
کسے گھر وچ بھکھ پئی نچدی،کسے گھر وچ تھال بھرے
کسے گھر وچ مال اتاولا کسے گھر وچ مساں سرے
اسی رج کے رو وی نہ سکدے،دتا ظلماں انج مکا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
کسے گھر وچ دھن دے لابھڑو،کسے گھر وچ تن وپار
کسے گھر وچ بھکھ دے کھوبڑے کسے گھر وچ رج للار
کوئی اک دے پھل اتھ ویچدا رنگ لا لا گلاب جیہا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
اتھ گونگے شہر دے واسڑے،اتھ سندا نہ کوئی واج
سن سمیاں والے حاکما،کد مکنا ظلم دا راج
ہک بھیج حسینی قافلہ تے یزیدی مار مکا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
کد مکنی ہرص دی لوبھڑی کد چھٹنی ساڈی جند
اسی دنیا دنیا جاپدے سانوں دنیا دتا نند
اسی حق دیاں راہواں چھوڑ کے تے ٹر گئے پٹھے راہ
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
کوئی ویچے ناخن ہوش دے کوئی ویچے بول براز
کوئی ویچے پوہر حیات دا کوئی ویچے عمر دراز
کوئی بغلیں امبر سانبھ کے تے حوکے دیوے سدا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
اتھ دھرتی دا دل پاٹیا تے سمیاں ماری چیک
اتھ دھرتی جیو کرلاوندے پر سبھ کجھ لگے ٹھیک
اتھ بھکھے درندے ماس دے تے کھاون رت رلا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے،اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
ہن کون بچاوے آن کے پیے ماڑے لیندے لوہ
اتھ دریاواں دے سینے دے وچ زہر بھرے نیں کھوہ
اتھ دردمنداں دے دردی وی اج گئے نیں منہ وٹا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
اج سفنے کوکاں ماردے تے ڈگ پیے منہ دے بھار
پرلے پار تے دشمن سی پر کون سی ارلے پار
چھڈ سوہنے رب تے معینیا بس ایتھے گل مکا
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
اتھ کتا پاڑے چاننی پٹھ پچھے بادشاہ
*تبصرہ*
کچھ لوگ شاعر نہیں ہوتے، پورا شہر ہوتے ہیں۔
ان کے لفظوں میں گلیاں ہوتی ہیں، ان کی خاموشی میں ہجوم، اور ان کے درد میں زمانے کی پوری تاریخ بولتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اکثر انہی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں جنہیں وہ اپنے لفظوں سے روشن کرتے ہیں۔ معین بلوچ بھی اسی قبیل کا شاعر ہے ، ایک ایسا نایاب پھول جو صحرا میں کھلتا ہے، خوشبو بکھیرتا ہے، اور پھر بغیر دیکھے جانے کے مرجھا جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں فن کی قدر کا پیمانہ بدل چکا ہے۔ اب دکھنے والا بکتا ہے، بولنے والا نہیں۔ اب اشتہار علم سے زیادہ طاقتور ہے، تعلق ہنر پر غالب، اور شور، سچ پر بھاری۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص خاموشی سے، پوری دیانت اور فکری گہرائی کے ساتھ لکھ رہا ہو تو اس کا نظر انداز ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں — بلکہ ہمارے اجتماعی ذوق پر ایک فردِ جرم ہے۔
معین بلوچ کی یہ کافی
"اتھ بھکھاں پائے آہلنے، اتھ اوکھا ہک ہک ساہ”
محض ایک نظم نہیں، یہ عہدِ حاضر کا ایک روحانی ایکس رے ہے۔ اس میں بھوک صرف روٹی کی نہیں، معنی کی بھوک ہے۔ اس میں سانس کی دشواری صرف غربت نہیں، انسان ہونے کی قیمت ہے۔
اتھ بھکھاں پائے آہلنے اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
اتھ کتا پاڑے چاننی، پٹھ پچھے بادشاہ
یہ صرف طبقاتی تضاد کا بیان نہیں، یہ اس دنیا کی تصویر ہے جہاں چاندنی کو کتے پھاڑ رہے ہیں اور اقتدار پیچھے کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔ یہ وہی دنیا ہے جہاں روشنی بے توقیر ہے اور تاریکی بااختیار۔
*جدید تصوف: خانقاہ سے شہر تک*
اکثر لوگ تصوف کو ماضی کی چیز سمجھ بیٹھے ہیں — چراغ، چادریں، تسبیحیں، اور بند آنکھیں۔ مگر اصل تصوف آنکھیں کھولنے کا نام ہے۔
اور یہی معین بلوچ کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ تصوف کو خانقاہ سے نکال کر شہر کے فٹ پاتھ پر لے آتا ہے۔
اتھ گونگے شہر دے واسڑے، اتھ سندا نہ کوئی واج
سن سمیاں والے حاکما، کد مکنا ظلم دا راج
یہ جدید انسان کا تصوف ہے — جہاں شہر گونگا ہے، آوازیں مر چکی ہیں، اور وقت کے حاکم بہرے ہو چکے ہیں۔ یہ وہ تصوف نہیں جو دنیا سے کٹنے کا درس دے، بلکہ وہ تصوف ہے جو دنیا کو آئینہ دکھاتا ہے۔
*شعور، جدت اور درد کی تثلیث*
اس کافی میں تین چیزیں مسلسل ساتھ چلتی ہیں:
شعور، جدت، اور درد۔
یہاں غربت صرف معاشی نہیں:
کسے ہتھ وچ خالی کاسڑے کسے ہتھ وچ کالا دھن
یہاں دولت صرف پیسہ نہیں، یہ طاقت، استحصال اور مقدر خریدنے کا استعارہ ہے۔
یہاں بھوک صرف پیٹ کی نہیں:
اسی رج کے رو وی نہ سکدے، دتا ظلماں انج مکا
یہ وہ معاشرہ ہے جہاں رونے کی بھی اجازت نہیں، جہاں دکھ کو بھی ڈسپلن میں رکھا گیا ہے۔
*آج کا انسان اور آج کا تصوف*
سب سے اہم نکتہ یہ ہےکہ پرانا صوفیانہ ادب ایک ایسے دور کا پیداوار تھا جہاں انسان کی دنیا محدود تھی۔ آج انسان چاند تک پہنچ گیا ہے، مگر اپنے اندر سے کٹ گیا ہے۔
اس نئی دنیا کو نیا تصوف چاہیے — ایسا تصوف جو موبائل فون، کارپوریٹ سسٹم، مصنوعی تعلقات اور برانڈڈ روحانیت کو پہچان سکے۔
معین بلوچ کی کافی اسی ضرورت کا جواب ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
اسی حق دیاں راہواں چھوڑ کے تے ٹر گئے پٹھے راہ
یہ محض مذہبی جملہ نہیں، یہ اخلاقی انحراف کی نشاندہی ہے۔ یہ انسان کے اصل سے کٹ جانے کا نوحہ ہے۔
*اصل المیہ: شاعر نہیں، ہم*
اصل سوال یہ نہیں کہ معین بلوچ کو پہچانا کیوں نہیں گیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم پہچاننے کے قابل رہے بھی ہیں؟
جب ہیرا صراف تک نہ پہنچے تو قصور ہیرے کا نہیں،
جب پھول صحرا میں مرجھائے تو الزام خوشبو پر نہیں،
اور جب بڑا شاعر گلیوں میں رہ جائے تو یہ اس کی نہیں، ہماری ناکامی ہے۔
یہ کافی ہمیں صرف جھنجھوڑتی نہیں، ہمیں شرمندہ بھی کرتی ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کس طرح شور کو فن، نمائش کو علم، اور تعلق کو قابلیت سمجھ بیٹھے ہیں۔
معین بلوچ جیسے شاعر کم نہیں ہوتے،
قدر کرنے والے کم ہو گئے ہیں۔
اور شاید اسی لیے آج:
اتھ بھکھاں پائے آہلنے، اتھ اوکھا ہک ہک ساہ
یہ صرف ایک مصرع نہیں،
یہ پورے عہد کی سانس ہے
*سماجی پہلو:*
معین بلوچ کی یہ کافی سماج کو ایک ایسے جسم کے طور پر پیش کرتی ہے جس کا توازن بگڑ چکا ہے۔ کہیں بھوک ناچ رہی ہے اور کہیں تھال بھرے ہوئے ہیں، کہیں خالی کاسے ہیں اور کہیں کالا دھن۔ یہ تضاد محض غربت و امارت کا فرق نہیں بلکہ سماجی انصاف کے انہدام کی علامت ہے۔ شاعر اس معاشرے کو دکھاتا ہے جہاں رونا بھی نصیب نہیں، جہاں دکھ اجتماعی ہونے کے باوجود تنہا ہے۔ “اتھ گونگے شہر دے واسڑے” دراصل اس سماج کا نوحہ ہے جو بولنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، جہاں آوازیں موجود ہیں مگر سماعت مر چکی ہے۔ یہ کافی ہمیں بتاتی ہے کہ مسئلہ صرف بھوک نہیں، مسئلہ وہ سماجی ڈھانچہ ہے جو بھوک کو معمول بنا چکا ہے۔
*سیاسی پہلو:*
سیاسی سطح پر یہ کافی ایک بے رحم اور بے حس اقتدار پر براہِ راست سوال ہے۔ “پٹھ پچھے بادشاہ” اور “سن سمیاں والے حاکما” جیسے مصرعے اس حکمرانی کی نشاندہی کرتے ہیں جو عوام کی تکلیف کے پیچھے کھڑی تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہاں سیاست خدمت نہیں بلکہ طاقت کا کھیل ہے، جہاں چاندنی کو کتے پھاڑ رہے ہیں اور ریاست خاموش ہے۔ یہ نظم اس سیاست کو بے نقاب کرتی ہے جو انصاف کے بجائے مفاد، اور عوام کے بجائے اشرافیہ کے گرد گھومتی ہے۔ یہ احتجاج نعرے کی صورت میں نہیں بلکہ اخلاقی سوال کی شکل میں سامنے آتا ہے، جو زیادہ گہرا اور زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
*سائنسی و فکری پہلو:*
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کافی سائنسی شعور سے بھی ہم آہنگ نظر آتی ہے، خاص طور پر انسانی بقا اور نظامی خرابی کے تناظر میں۔ “اتھ اوکھا ہک ہک ساہ” صرف شاعرانہ کیفیت نہیں بلکہ اس جدید انسان کی تصویر ہے جو نفسیاتی دباؤ، ماحولیاتی زہر، اور معاشی عدم تحفظ کے باعث واقعی سانس لینے میں دشواری محسوس کر رہا ہے۔ “دریاواں دے سینے دے وچ زہر بھرے نیں کھوہ” جدید ماحولیاتی سائنس اور آلودگی کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔ یوں یہ کافی بتاتی ہے کہ انسان کا روحانی زوال، سماجی بگاڑ اور فطری نظام کی تباہی — یہ سب الگ الگ بحران نہیں بلکہ ایک ہی ٹوٹے ہوئے نظام کی مختلف علامتیں ہیں۔




