دہشتگردی کا کوئی صوبہ، مذہب یا ملک نہیں ہوتا، مذمت ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور اس کا کوئی صوبہ، مذہب یا ملک نہیں ہوتا، اس لیے بحیثیت پاکستانی ہمیں ہر صورت دہشتگردی کی مذمت کرنی چاہیے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر وفاق اور صوبے کے درمیان مکمل تعاون پر اتفاق ہوا ہے.
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں کسی سیاسی معاملے یا سابق وزیر اعظم بانی چیئرمین عمران خان کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات بطور وزیراعلیٰ ان کے عہدے کا تقاضا تھی اور خیبر پختونخوا اور اس کے عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے بات کرنا ضروری تھا.
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بتایا کہ ملاقات میں بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی جیب سے قبائلی اضلاع پر 26 ارب روپے خرچ کیے ہیں جبکہ وفاق کے ذمے این ایف سی، این ایچ پی اور دیگر مدات میں 2600 ارب روپے کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے.
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، مگر ان علاقوں کیلئے مختص چار ارب روپے کی رقم انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ اور کرم کے عوام پاکستان کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جن سے ان کی دل آزاری ہو.
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے کیلئے این ایف سی، این ایچ پی اور وفاقی بقایا جات کے معاملے کو آگے بڑھانے کیلئے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مزید خصوصی ملاقاتیں بھی ہوں گی.
سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ بطور وزیراعلیٰ ان کے آئینی کردار کا تقاضا تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق، امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے.




