سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اعلامیہ
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے قومی اخبارات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اخباری رپورٹس کے مطابق عمران خان کو پمز ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا گیا اور بعد ازاں بغیر کسی اطلاع کے واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا، جبکہ اس تمام عمل کے بارے میں ان کی فیملی، پارٹی کے قائدین، وکلاء اور عوام کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا، جو انتہائی قابلِ مذمت اور تشویشناک ہے۔
کور کمیٹی عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنے اور ان کی فیملی، سیاسی رفقاء اور وکلاء کی ملاقاتیں روکنے کی سخت مذمت کرتی ہے۔ کور کمیٹی پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں فوری طور پر واضح اور مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی فیملی، پارٹی رہنماؤں اور وکلاء سے فوراً ملاقات کروائی جائے۔ یہی مطالبہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے بھی کیا گیا ہے۔
کور کمیٹی نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کا معائنہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔ اگر اس عمل میں تاخیر کی گئی تو پاکستان تحریک انصاف اپنا آئندہ کا لائحۂ عمل دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے، جس میں عوام سے اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ پرامن طور پر خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کریں۔
کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کی سفارتی ریلیشن کمیٹی اور ہیومن رائٹس کمیٹی دیگر ممالک کے سفیروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے اس سنگین مسئلے کو اٹھائیں گی اور اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے پارٹی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کو باقاعدگی سے آگاہ کرتی رہیں۔
مزید برآں، کور کمیٹی نے عمران خان سے ملاقاتوں سے متعلق تمام مقدمات کے بارے میں پارٹی کی جانب سے ہدایت کی ہے کہ سینئر وکلاء بشمول سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر علی خان، ان مقدمات کو جلد از جلد فکس کروائیں، عدالت میں پیش ہو کر مؤثر انداز میں پیروی کریں اور فوری سماعت کو یقینی بنائیں۔ کور کمیٹی نے یہ معاملہ سینئر وکلاء کے صوابدیدی اختیار پر بھی چھوڑا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ مزید کسی نئی درخواست کی ضرورت ہے، چاہے وہ وفاقی آئینی عدالت میں ہو، تو وہ بلا تاخیر فائل کی جائے۔
کور کمیٹی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدینِ حزبِ اختلاف سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کو پارلیمانی سطح اور متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھائیں اور سینیٹ و قومی اسمبلی کے پلیٹ فارمز سے تمام متعلقہ حلقوں کے سامنے یہ مسئلہ بھرپور انداز میں اجاگر کریں تاکہ اس کا فوری اور مؤثر حل نکالا جا سکے۔
کور کمیٹی حکومت کے "بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔ پارٹی کسی بھی صورت فلسطینی عوام کی خواہشات اور حق آزادی کے برخلاف کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کرتی۔
اجلاس میں کور کمیٹی کے اراکین کو 8 فروری کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات سے بھی آگاہ کیا گیا، جس پر کور کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا۔ کور کمیٹی نے 8 فروری کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اراکین کو ذمہ داریاں تفویض کر دی ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پرامن عوامی طاقت اور جمہوری انداز سے آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
جاری کردہ
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف




