شجرکاری کی رفتار مایوس کن، ماحولیاتی منصوبہ تعطل کا شکار
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
سوا سال میں صرف 1فیصد رقبے پر شجر کاری. ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کا منصوبہ ٹھپ
لاہور کے گرد ستر لاکھ درخت لگانے کا ہدف تھا، منصوبے کے تحت ابھی تک صرف اڑھائی لاکھ پودے ہی لگائے جا سکے لاہور میں کم از کم ساڑھے 6کروڑ درخت ہونے چاہئیں.ماہرین ، اگلے دنوں شجرکاری مہم تیزہوگی.ایم ڈی پی ایچ اے
لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا لنگز آف لاہور منصوبہ تاحال اپنے اہداف سے بہت پیچھے ہے ۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی نے دریائے راوی کے اطراف جنگلات لگانے کے لیے آٹھ سو ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی، تاہم ایک سال اور دو ماہ گزرنے کے باوجود صرف ستر ایکڑ رقبے پر ہی شجرکاری ہو سکی.
اس طرح حکومت کے اعلان کردہ رقبے کے محض آٹھ اعشاریہ سات پانچ فیصد حصے پر درخت لگائے جا سکے،اسی منصوبے کے تحت لاہور کے گرد ستر لاکھ سے زائد پھل دار اور شیڈ دار درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، مگر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق لنگز آف لاہور منصوبے کے تحت ابھی تک صرف اڑھائی لاکھ پودے ہی لگائے جا سکے ہیں.
یوں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ زمین کا محض تین اعشاریہ سات پانچ فیصد حصہ ہی شجرکاری کی زد میں آ سکا۔ماہرین کے مطابق اس آبادی کے تناسب سے لاہور میں کم از کم پینسٹھ ملین درخت ہونے چاہئیں، مگر شہر میں مکمل درختوں کی کل تعداد کا کوئی منظم ڈیٹا بیس ہی موجود نہیں.
اگرچہ لاہور کے کل رقبے میں بائیس فیصد حصہ گرین سپیس پر مشتمل بتایا جاتا ہے ، مگر اس میں درختوں کی حقیقی تعداد نہایت کم ہے ، جو شہر کے ماحولیاتی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے .دوسری جانب ایم ڈی پی ایچ اے لاہور کا کہنا ہے کہ لنگز آف لاہور منصوبے کے تحت دریائے راوی کے کنارے اڑھائی لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں اور مزید اراضی دستیاب ہونے کی صورت میں شجرکاری مہم کو مزید وسعت دی جائے گی.




