افواجِ پاکستان ہماری بقاء کی ضامن 331

افواجِ پاکستان ہماری بقاء کی ضامن

تحریر: عمران خان رند بلوچ

افواج کسی بھی ملک کی بقا کی ضامن ہوتی ہیں۔ جس ملک کی افواج کمزور ہوں وہ ملک بیرونی مداخلت اور خانہ جنگی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی خودمختاری قائم رکھنے میں اس ملک کی افواج کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر افواج طاقتور ہیں تو کوئی دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
افواجِ پاکستان ہمارا فخر ہیں، ہماری شان ہیں۔ پاکستان کی عوام اپنی افواج سے بےحد محبت کرتی ہے۔ اور دشمن کے کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
قارئین پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ،کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اس ملک کی مجموعی شرحِ نمو پر ہوتا ہے۔ پاکستان دنیا کی جی ڈی پی گروتھ کی عالمی رینکنگ میں چھیالیسویں نمبر پر ہے۔ جب کے ہمارا دشمن ملک بھارت چھٹے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود اگر دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست دیکھی جائے تو پاکستان گیارویں نمبر پر ہے ۔ افواجِ پاکستان دنیا کی چند طاقتور ترین اور سب سے بڑی افواج میں سر فہرست ہے جس کے پاس فعال اہلکاروں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان کے پاس فعال اہلکاروں کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار سے زائد ہے۔ اس کے پاس دو ہزار سے زائد ٹینک ہیں۔ پاکستان فضائیہ کے پاس نو سو چودہ لڑاکا طیارے ہیں۔ پاکستان بحریہ کے پاس آٹھ آبدوزوں کے علاوہ ساٹھ جنگی بحری جہاز موجود ہیں جو ہمارے ملکی دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ان سب کے علاوہ پاکستان دنیا کے ان سات ممالک میں شامل ہے جس کے پاس مؤثر ایٹمی طاقت ہے،جس کے پاس تقریباً 150 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جو پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہیں۔
پاکستان کے یہ ایٹمی ہتھیار صرف اپنے دفاع کےلیے ہیں جو کہ کسی بھی ملک کی پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی صورت میں حرکت میں آئیں گے۔ خواہ وہ ہمارا ازلی حریف بھارت ہو یا کوئی اور ۔
پاکستان دنیا کی بہادر افواج کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ افواجِ پاکستان نے اس ملک کی حفاظت کی خاطر اپنے جواں بیٹوں کی قربانیاں دیں۔ افواج پاکستان دشمن کی ہر شرانگیزی کا بھرپور جواب دیتی ہیں۔ خواہ وہ بیرونی محاذوں پر ہو یا اندرونی دشمن ہو افواجِ پاکستان نے مؤثر جوب دیا۔
پاکستان آرمی نے حالیہ دہشتگردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کیں وہ بہادری،عزم و ہمت کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں۔ دہشتگردی کی اس جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچا، تقریباً 80 ہزار جانیں ضائع ہوئیں، 6 ہزار فوجی شہید ہوئے۔ لیکن اس جنگ کو نہ صرف جیتا بلکہ ان قربانیوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنی عوام کے دل بھی جیتے۔ جس ملک کا بچہ بچہ اپنی افواج سے پیار کرتا ہے۔
قارئین دہشتگردی کی یہ جنگ جو بیس سال پہلے شروع ہوئی بالآخر پاکستانی فوج نے اسے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ یہی جنگ امریکہ افغانستان میں بری طرح ہار گیا جو کہ پاکستان سے کئی گنا زیادہ طاقتور ترین افواج رکھتا تھا۔جس کے پاس دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی تھی۔ لیکن یہ جنگ جزبے سے لڑی جاتی ہے جو پاکستانی افواج نے ثابت کیا اور دنیا اس کی معترف ہے۔
پاکستان آرمی نے 1965 اور 1971 کی جنگیں بھی اسی جزبے اور بہادری سے لڑیں۔ 1965 میں اپنے سے چار گنا بڑے دشمن بھارت کو دھول چٹا دی۔ جب بھارت نے رات کے اندھیرے میں لاہور اور سیالکوٹ کی سرحد پر حملہ کر دیا لیکن دشمن یہ نہیں جانتا تھا کہ پاکستانی فوجی ہمہ وقت تیار ہیں۔ پاکستان نے 1965 میں واضح طور پر جنگ جیت لی اور دشمن کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔ 1965 میں پاکستان فضائیہ نے پٹھان کوٹ پر بھرپور حملہ کر کے بھارتی بیس کو تباہ کردیا اور بھارتی طیارے اڑنے سے پہلے ہی ملبہ کا ڈھیر بن گئے۔ پاکستان بحریہ نے دوارکا پر حملہ کر کے بھارتی راڈار سسٹم اور بحری جہازوں کو انہی کی بندر گاہ پر تباہ کر دیا۔ یہ حملہ اتنا بھرپور تھا کہ تاریخ میں اسے سنہری حروف میں لکھا گیا ہے کہتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی کے 17 حملوں کے بعد دوارکا پر یہ پہلا حملہ تھا جس میں بھارت کا سب سے بڑا بت خانہ تباہ کر دیا تھا۔ اور بھارت کی بحری فوج کو اپنی بندرگاہوں تک محدود کر دیا تھا۔
آج بھی ہمارے جوان اپنے وطن اور قوم کے باسیوں کی آخری امید ہیں جب بھی کسی دشمن نے للکارا ہے افواجِ پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس نے دشمن کے ہوش بھی اڑ دیے۔
حال ہی میں 27 فروری 2019 کو جب دشمن ملک بھارت نے اک بار پھر آزمانے کی کوشش کی تو پاکستان فضائیہ نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ بھارت کبھی نہیں بھولے گا۔ پاکستان فضائیہ نے بھارت کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے اور پائیلٹ گرفتار کر لیے۔ دنیا میں پاکستان کی اس پیشہ ورانہ مہارت کی دھاک بیٹھ گئی ۔ پاکستان بحریہ نے بھی ہمت اور جذبے سے ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو نہ صرف روکا بلکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ 2019 میں جب دشمن ملک بھارت کی آبدوز نے ہماری سمندری حدود کو پار کرنے کی کوشش کی تو پاکستان بحریہ نے فوراً انہیں اپنے پانیوں سے بھگایا اور وارننگ جاری کی۔
پاکستان کی اسپیشل فورسز دنیا کی دس بہترین اسپیشل آپریشنز فورسز میں سر فہرست ہیں۔ پاکستان آرمی کی ایس ایس جی ، پاکستان بحریہ کی سیل گروپ اور پاکستان فضائیہ کی ایس ایس ڈبلیو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب میں ایس ایس جی کمانڈوز نے بہت مثالی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان بحریہ کی سیل گروپ نے بلوچستان میں دشمن ایجنسیوں پر کاری ضرب لگائی۔
پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی دنیا کی بہترین جاسوس ایجنسیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ جس نے بیک وقت دشمن ممالک کی 40 سے زائد انٹیلیجنس ایجنسیوں کا مقابلہ کیا۔ آج بھی ہمارے گمنام ہیرو اپنی شناخت بھول کر اپنے گھر بار اور ہل و عیال کو چھوڑ کر کہیں دور اس ملک کی خاطر کسی محاز پر، کسی مشن پر لڑ رہے ہوں گے جب ہم چین کی نیند سو رہے ہوتے ہیں۔
اسی جذبے کی وجہ سے پاکستانی عوام اپنی افواج سے پیار کرتی ہے۔ ان کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج ملک قائم و دائم ہے۔ اور اسی جزبے کی بدولت آج پاکستان میں معاشی ترقی ممکن ہو رہی ہے ،انہی قربانیوں کی بدولت بلوچستان میں دشمن ایجنسیوں کو شکست آلود کر کے پاکستان گوادر بندر گاہ فعال کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
قارئین آخر میں اپنی افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کے بچے یتیم ہوگئے جنکی ماؤں کی جھولیاں خالی ہوگئیں جن کی بیویاں بیوا ہوگئیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کےلیے قربان کر دیا لیکن اس ملک پر آنچ نہیں آنے دی۔

افواجِ پاکستان ذندہ باد
پاکستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں