آج کے کالمزفیچر کالمزکالمز

نئی نسل کا شعور اور ایک ہم عصر اقبال

(کتاب: شکوۂ آزاداں — پروفیسر خبیب زاہد)

کالم نگار پروفیسر محمد رزاق امن وٹو : پی این نیوز ایچ ڈی

ہمارے عہد کا سب سے بڑا بحران یہ نہیں کہ خیالات ختم ہو گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سوچنے کا حوصلہ کمزور پڑ گیا ہے۔ رائے تو ہر طرف ہے، مگر بصیرت نایاب ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی کتاب قاری کو جذبات کے بجائے فکر، نعروں کے بجائے شعور، اور تقلید کے بجائے سوال کی طرف لے جائے، تو وہ محض ادبی کاوش نہیں رہتی بلکہ ایک فکری ضرورت بن جاتی ہے۔ پروفیسر خبیب زاہد کی کتاب شکوۂ آزاداں اسی ضرورت کا جواب ہے۔

یہ کتاب نہ تو روایتی معنوں میں احتجاجی ادب ہے اور نہ ہی مصلحت پسند شاعری کا مجموعہ۔ اس کا اصل حوالہ شاعر کی وہ فکری پختگی ہے جو اسے نہ ماضی کی پرستش میں مبتلا کرتی ہے اور نہ حال کے شور میں گم ہونے دیتی ہے۔ شکوۂ آزاداں دراصل ایک باشعور ذہن کی داخلی گفتگو ہے جو قاری کو بھی اسی مکالمے میں شامل کر لیتی ہے۔

پروفیسر خبیب زاہد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نسلوں کے درمیان تصادم نہیں، ربط پیدا کرتے ہیں۔ آج کی نئی نسل جسے اکثر بے سمت، باغی یا منقطع کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، اس کتاب میں پہلی بار خود کو سنجیدگی سے مخاطب پاتی ہے۔ یہاں نوجوان ذہن کو نہ ڈانٹا جاتا ہے، نہ مرعوب کیا جاتا ہے، بلکہ اس کے سوالات کو جائز مان کر انہیں فکری ترتیب دی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کتاب بومرز اور Gen-Z کے درمیان ایک فکری پل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

روایت کے معاملے میں بھی شکوۂ آزاداں کا رویہ غیر معمولی حد تک متوازن ہے۔ مصنف نہ روایت کو ناقابلِ سوال سمجھتا ہے اور نہ اسے رکاوٹ بنا کر مسترد کرتا ہے۔ اس کے نزدیک روایت ایک زندہ تجربہ ہے، جسے سمجھے بغیر نہ آگے بڑھا جا سکتا ہے اور نہ ہی درست معنوں میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ اس کتاب کو جمود سے بچا کر ارتقا کی طرف لے جاتی ہے۔

یہی فکری رویہ لاشعوری طور پر علامہ اقبال کی یاد دلاتا ہے، مگر یہاں مماثلت نقل کی نہیں بلکہ فکری تسلسل کی ہے۔ اقبال نے اپنے عہد کے نوجوان کو خودی، حریت اور مقصد کا شعور دیا تھا؛ پروفیسر خبیب زاہد اپنے عہد کے نوجوان کو سوال، آگہی اور اخلاقی ذمہ داری کا شعور دیتے نظر آتے ہیں۔ فرق زمانے کا ہے، مسئلہ وہی ہے: انسان کا اپنے مقصد سے دور ہو جانا۔

کتاب کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں مذہب کو نعرہ نہیں بنایا گیا۔ مصنف مذہبی فکر کو انسانی اخلاق، سماجی ذمہ داری اور باطنی سچائی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یوں مذہب محض شناخت نہیں رہتا بلکہ عمل اور کردار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی نقطہ شکوۂ آزاداں کو سطحی مذہبیت سے بلند کر کے فکری وقار عطا کرتا ہے۔

مایوسی، شکست اور اندھیرے کے اس دور میں یہ کتاب قاری کو رونے یا شکوہ کرنے پر نہیں چھوڑتی۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اندھیروں کا مقابلہ شور سے نہیں، شعور سے کیا جاتا ہے۔ مسائل گنوانا آسان ہے، مگر راستہ دکھانا اصل ذمہ داری ہے — اور یہی ذمہ داری اس کتاب کا مرکزی وصف ہے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شکوۂ آزاداں قاری کو متاثر کرنے کے بجائے ذمہ دار بناتی ہے۔ یہ کتاب کسی کو مرید نہیں بناتی، بلکہ اسے باشعور فرد بننے کی دعوت دیتی ہے۔ یہاں حکم نہیں، رہنمائی ہے؛ یہاں نعرہ نہیں، سوال ہے؛ اور یہی وہ فرق ہے جو بڑی کتابوں اور وقتی تحریروں میں ہوتا ہے۔
ایسے قلم کار ہر دور میں کم ہوتے ہیں جو وقت کے شور میں بھی سچ کو سن سکیں اور پھر اسے وقار، توازن اور فکری دیانت کے ساتھ لفظوں میں ڈھال سکیں۔

شکوۂ آزاداں اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک سنجیدہ، خاموش مگر مضبوط کوشش ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے