ابک قطرہ خون گرنے سے پہلے قبول ہونے والا عمل، قربانی 385

ابک قطرہ خون گرنے سے پہلے قبول ہونے والا عمل، قربانی

تحریر۔ چوہدری عطا محمد نت

آنحضرتﷺ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے عشرۂ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں، ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے
(ترمذی، ابن ماجہ)

قرآن مجید میں سورۂ ’’والفجر‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرۂ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔ خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گزشتہ اورایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات میں بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے۔

تکبیر تشریق ’’  أللّٰہ أکبر أللّٰہ أکبر لا إلٰہ إلا اللّٰہ واللّٰہ أکبر أللّٰہ أکبر وللّٰہ الحمد ‘‘۔ نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد بآوازِ بلند ایک مرتبہ مذکورہ تکبیر کہنا واجب ہے۔ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں، اس طرح مرد وعورت دونوں پر واجب ہے، البتہ عورت بآوازِ بلند تکبیر نہ کہے، آہستہ سے کہے۔(شامی)

عید الاضحی کے دن مذکورہ ذیل امور مسنون ہیں:
صبح سویرے اُٹھنا، غسل ومسواک کرنا، پاک وصاف عمدہ کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبولگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآوازِ بلند تکبیر کہنا۔نماز عید دو رکعت ہیں۔ نماز عید اور دیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں ’’سبحانک اللّٰہم ‘‘پڑھنے کے بعد قراءت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں۔ پہلی رکعت میں دوتکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔

اگر دورانِ نماز امام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو ازدہام کی وجہ سے نماز درست ہوگی، سجدۂ سہو بھی ضروری نہیں۔

اگر کوئی نماز میں تاخیر سے پہنچا اور ایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا، یعنی ثناء ’’سبحانک اللّٰہم‘‘ کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اور آگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا۔نمازِ عید کے بعد خطبہ سننا مسنون ہے۔ خطبہ سننے کا اہتمام کرنا چاہیے، خطبہ سے پہلے اٹھنا درست نہیں ہے

قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہﷺ نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی، کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے لگاتار کیا اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ 

قربانی کی بڑی فضیلتیں ہیں جن میں سے چند ایک کچھ یوں ہیں مسند احمد کی روایت میں ایک حدیث پاک ہے، حضرت زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ: یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قربانی تمہارے باپ ابراہیم علیہ کی سنت ہے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے ایک ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ اون کے متعلق فرمایا: اس کے ایک ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قربانی کے دن اس سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں،ث کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوںاور کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے، اس لیے تم قربانی خوش دلی سے کرو۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں: قربانی سے زیادہ کوئی دوسرا عمل نہیں، الا یہ کہ رشتہ داری کا پاس کیا جائے۔ (طبرانی)

رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ سے ارشاد فرمایا کہ: تم اپنی قربانی ذبح ہوتے وقت موجود رہو، کیونکہ پہلا قطرہ خون گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں، اس لیے اہل اسلام سے درخواست ہے کہ اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کریں جو اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ اور اس سلسلہ میں جن شرائط وآداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے،اُنہیں اپنے سامنے رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قربانی کی روح اور حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری یہ ظاہری قربانی حقیقی قربانی کے لیے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری ومادی قربانی کی طرح اللہ کے حکم پر اپنی جان کی قربانی کے لیے بھی ہمیشہ تیار رہیں۔

واللّٰہ الموفق والمعین وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ محمد وآلہٖ وصحبہٖ أجمعین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں