262

سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرونانک کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کرنے ائی لڑکی نے پاکستا نی مسلمان لڑکے سے شادی کر لی ہے۔

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

بھارت سے آئی سکھ لڑکی بولنے اور سننے کی صلاحیت سے قاصر ہے اور اس نے عمران نامی جس پاکستانی لڑکے سے شادی کی ہے وہ بھی بولنے اور سننے کی صلاحیت سے خود بھی قاصر ہے اور لاہور کا رہنے والا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مذہب بدلنے والی سکھ لڑکی پرمجیت کور کا عمران سے رابطہ سوشل میڈیا پر ہوا تھا جو ان کے شوہر کے علم میں تھا۔پر مجیت نے جسٹس آف پیس کے دفتر میں حاضر ہو کر اپنے سکھ شوہر کی موجودگی میں پاکستانی عمران سے 23 نومبر کو شادی کی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت میں ہی اس کے سابق شوہر نے اسے طلاق دی۔اس کے بعد دیگر سکھ یاتریوں کی طرح پر مجیت کور کا ویزا بھی 26 نومبر کو ختم ہوا تو یہ اپنے نئے شوہر کے ہمراہ بھارت جانا چاہتی تھیں۔مگر جا نہیں سکیں کیونکہ عمران کا ویزا موجود نہیں جس کی وجہ سے انکی بیوی کو اکیلا ہی بھارت جانا پڑا اور لاہور کا رہائشی عمران واپس اپنے گھر آ گیا ۔اس کے علاوہ پاکستان ی میڈیا کے مطابق پاکستانی نوجوان سے شادی کرنا اور مذہب تبدیل کرنا بھارتی لڑکی کو مہنگا پڑ گیا ہے۔اب بھارت واپسی پر پرمجیت کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور بھارتی شرومنی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو خط لکھا ہے جس میں خاتون کو پاکستان جانے کے لیے آئندہ ویزا جاری نہ کرنےاور انہیں مستقل طور پر بلیک لسٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔
نئی دہلی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ پرم جیت سنگھ سرنا نے پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ بھارت کی سکھ برادری کی جانب سے مغربی بنگال میں مقیم سکھ یاتری کو پاکستان سے بھارت واپس بھیجنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔یہ سختی اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان جا کراپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے، خاتون کے عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثرمنفی اثرڈالا ہے۔

اب اس خاتون نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے اور دائرے اسلام میں داخل ہو کر اس نے اپنا م پر مجیت کور سے پروین سلطانہ رکھ لیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں