اسٹامپ پیپر فیسوں میں ہوشربا اضافہ، عوام شدید مشکلات کا شکار
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
حکومت نے مختلف نوعیت کے اسٹامپ پیپرز اور ای اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث سائلین اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ میڈیا کے مطابق نئے فیصلے کے بعد عام شہریوں کو روزمرہ قانونی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا.
تفصیلات کے مطابق کم سے کم ای اسٹامپ پیپر کی مالیت 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کر دی گئی ہے۔ طلاق کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی قیمت میں تین گنا سے زائد اضافہ کرتے ہوئے 100 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح بچوں کے نئے اسکولوں میں داخلے اور ملازمت کے حصول کے لیے درکار ڈومیسائل اسٹامپ پیپر فیس بھی 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کر دی گئی ہے.
حکومتی فیصلے کے تحت بجلی، سوئی گیس اور پانی کے نئے کنکشنز کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو پہلے 100 روپے تھی، اب 1000 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ کے لیے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پراپرٹی کے علاوہ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے مقرر کی گئی ہے.
مزید بتایا گیا ہے کہ ایک لاکھ روپے تک کے معاہدے کے لیے ای اسٹامپ پیپر فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کے معاہدوں پر یہ فیس بڑھا کر 6 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے معاہدوں کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر پر 20 ہزار روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے.
پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر کی فیس بھی 1500 روپے سے بڑھا کر 1800 روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ای اسٹامپ پیپر کے حصول کے لیے سائل کے نام پر موبائل فون کی سم کا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جسے حکام شفافیت اور تصدیق کے عمل سے جوڑ رہے ہیں.
عوامی حلقوں، وکلاء اور سائلین نے اسٹامپ پیپر فیسوں میں اس بھاری اضافے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر فیصلے پر نظرثانی کرے، کیونکہ مہنگائی کے موجودہ دور میں اس اقدام سے عام شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا.




