دھاگہ دھاگہ بکھرتی
پور پور سے ادھڑتی
پانی کی مورت
کچھ دنوں کو
جاگتی آنکھوں کو موندا تھا
کہ تم میرے پاس تھے
اب پھر وہی سرد کمرہ
اور اس میں
ریڑھ کی ہڈی میں دانت گاڑے
نہ رکنے والا درد
جگ رتے ان کا مقدر ہیں
جو محبت جانتے ہیں
عشق کو مانتے ہیں
تمہارا بچا چند گھونٹ پانی
بوتل سے جھانکتا ہے
آنکھوں سے لگایا ہے
بلکتے دل کو سمجھایا ہے
گر کلیم اللہ کی ماں
نیل کی لہروں میں
اپنالخت جگر
نور نظر
نہ ڈالتی تو
طور کی محفل کیسے سجتی ؟
محبت ذبیح اللہ نہ ہو تو
اسماعیل کو محبوب خداوندی
کیسے عطا ہو ؟؟؟
تیرے قدموں کی خیر
جہاں تو پیر رکھے
تجھے حکمت عطا ہو
قدرت عطا ہو
ہمت عطا ہو
سلطنت عطا ہو
تیری حسین آنکھیں
سب اچھے منظر دیکھیں
سب اچھے خواب دیکھیں
تیری نیندیں سلامت!
یہ دنیا تجھ پر فدا ہو
اور تو میرے لخت جگر!
رب پر فدا ہو
تیرے مضبوط شانے
اور مضبوط ہو جائیں
تیرے ہاتھوں کی خیر
جو پائے برکت عطا ہو
تیرے بازو قوی ہوں
اور یہ بازو
کبھی ایسا کوئی بوجھ نہ اٹھائیں
جو ان پر گراں ہو
ہواوں کے سفر میں
اک عورت کہ جس کا دل
تیرے ساتھ اڑتا ہے
جدائی روگ ہے جس کو
مگر
وہ ہنس کے کہتی ہے
میرے بہادر بیٹے
تو بہادر ماں کا بیٹا ہے
تیری رگوں میں دوڑتا میرا دودھ
نور الہی ہے
لوریوں کی گنگناہٹ نہیں
نہ ہی بلبل کے ترانے ہیں
اے اولاد محمد صلی اللہ علیہ وسلم
جبرئیل تیرے رہنما ہوں
اور تجھ کو
اللہ کی محبت عطا ہو
دھاگہ دھاگہ بکھرتی
پور پور ادھڑتی
اک پانی کی مورت
یہ بے مایہ عورت
دعا گوحوا کی بیٹی
بہادرمریم کی بیٹی
باہمت بنت حاجر
تیرے صدقے
میرے پیارے بیٹے
سیدہ نمیرہ محسن شیرازی
جنوری 11 2026



