انٹرویواہم خبریںبین الاقوامیبین الاقوامی خبریںپاکستانتصاویر اور مناظرتعلیمدلچسپ و عجیبکاروبارملٹی میڈیا

ورک ویزا پر سفر سے پہلے ٹریننگ اور ڈیجیٹل پروٹیکٹر لازمی

اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی

حکومتِ پاکستان اور بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے نئے قوانین نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے. جو یکم فروری 2026 سے مکمل طور پر لاگو ہوں گے.

نئے ضوابط کے تحت ورک ویزا پر بیرونِ ملک جانے والوں پر دو اہم اور لازمی شرائط عائد کی گئی ہیں، جن پر عمل کے بغیر نہ پروٹیکٹر کلیئرنس دی جائے گی اور نہ ہی سفر کی اجازت ہوگی.

حکام کے مطابق پہلی شرط سافٹ اسکلز ٹریننگ ہے، جس کے تحت بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو پروٹیکٹر لگوانے سے قبل آن لائن سافٹ اسکلز کورس مکمل کرنا اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا.

یہ شرط یورپی ممالک کے لیے یکم جنوری 2026 سے نافذ ہو چکی ہے، جبکہ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر کے لیے اس کا اطلاق یکم فروری 2026 سے ہوگا.
سافٹ اسکلز ٹریننگ کا سرٹیفکیٹ PakSoftSkills ایپ یا اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے حاصل کیا جا سکے گا.

دوسری اہم شرط ڈیجیٹل ای-پروٹیکٹر (e-Protector) سرٹیفکیٹ سے متعلق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یکم فروری 2026 سے پرانے مہر شدہ پروٹیکٹر سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ای-پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹس پر مسافروں کو بورڈنگ پاس اسی صورت جاری کیا جائے گا جب وہ ڈیجیٹل ای-پروٹیکٹر کا ثبوت پیش کریں گے۔

بیورو آف امیگریشن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی ورکرز کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری لانا اور امیگریشن کے عمل کو شفاف اور ڈیجیٹل بنانا ہے۔

حکام نے بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے سافٹ اسکلز ٹریننگ مکمل کریں، اس کے بعد پروٹیکٹر کلیئرنس حاصل کریں اور سفر سے قبل اپنا ای-پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ ضرور ڈاؤن لوڈ کریں، تاکہ کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے