The government will send a ship to return Pakistani prisoners from Saudi Arabia on Eid 371

عید پر سعودی عرب سے پاکستانی قیدیوں کی واپسی حکومت جہاز بھجوائے گی

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عید پر سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے 85 پاکستانی قیدی رہا کیے جا رہے ہیں، جن کو لانے کے لیے حکومت جہاز بھجوائے گی۔منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سنگین جرائم کے علاوہ جتنے بھی پاکستانی قیدی ہیں ان کو واپس لانے کا کام جاری ہے.
ان کے مطابق اب تک سینکڑوں قیدی رہا ہو کر وطن آ چکے ہیں.
فواد چوہدری نے یاد دلایا کہ جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان تشریف لائے تھے اس وقت انہوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔’ہمیں خوشی ہے کہ رہائی کا یہ عمل مسلسل چل رہا ہے اور یہ بہت بڑی خدمت ہے.
مزید پڑھیں’سعودی عرب سے گیارہ سو پاکستانی قیدیوں کو واپس لایا جا رہا ہے.
49 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کر دیا گیا: بلال اکبر
شاہی معافی،ریاض میں 65 پاکستانی قیدیوں کی سزا معاف 10 مئی 2021 کو وفاقی وزیر داخلہ نے جدہ میں اردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے میں ہونے والے معاہدوں کے بعد سعودی عرب کی جیلوں میں موجود گیارہ سو قیدیوں کو واپس لے جایا جائے گا.یہ قیدی اپنی سزا کا بڑا حصہ کاٹ چکے ہیں اور تھوڑی قید رہ گئی ہے.انہوں نے یہ وضاحب تھی کی تھی کہ یہ سہولت سنگین جرائم میں ملوث افراد کو نہیں ملے گی۔‘یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب میں سزایافتگان کے سلسلے میں تعاون اور انسداد جرائم کے سلسلے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے.
ان دونوں معاہدوں پر سعودی عرب کی طرف سے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز اور پاکستان کی جانب سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دستخط کیے.
شیح رشید کا مزید کہنا تھا کہ 30 پاکستانی قیدی ایسے ہیں جو قتل اور منشیات کے جرم میں قید ہیں اور انہیں سزائے موت ہوچکی ہے، انہیں نہیں لے جا سکتے۔ ان کو واپس لے جایا جائے گا جن کی سزا تھوڑی ہے اور جن پر سنگین کیسز نہیں ہیں، سنگین کیسز کو علیحدہ سے ڈیل کیا جائے گا.
شیخ رشید کے مطابق سعودی عرب کی جیلوں میں جو پاکستانی قید ہیں ان کی پاکستان میں فیملیز ہیں انہیں پاکستان کی جیلوں میں منتقل کرنے سے وہ ان کی دیکھ بھال کرسکیں گی جبکہ انہیں یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں