پاکستان رائٹرز کلب (PWC) کے زیر اہتمام 29واں سالانہ مقابلۂ حسنِ قرأت کا انعقاد
اعجاز احمد طاہر اعوان : پی این نیوز ایچ ڈی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ معروف ادبی تنظیم پاکستان رائٹرز کلب (PWC) اور لیڈیز چیپٹر کے زیر اہتمام رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں نہایت عقیدت، روحانیت اور شان و شوکت کے ساتھ 29واں سالانہ مقابلۂ حسنِ قرأت منعقد کیا گیا.
سالانہ مقابلۂ حسنِ قرأت کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو قرآن مجید کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی طرف راغب کرنا اور ان کے دلوں میں کلامِ الٰہی سے محبت و وابستگی کو فروغ دینا ہے۔ اس روح پرور تقریب میں 8 سے 16 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں نے بھرپور شرکت کی اور اپنی پرسوز اور دلنشین آوازوں سے حاضرین پر وجدانی کیفیت طاری کر دی.
تقریب کی نظامت کے فرائض یوسف علی یوسف نے احسن انداز میں سرانجام دیے.
مہمانِ خصوصی، سفارت خانہ پاکستان ریاض کے پاسپورٹ انچارج آفیسر ساجد محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ نعت و قرأت کے مقابلے ہمیں اپنی دینی اقدار سے جوڑتے ہیں۔ قرآنِ کریم امتِ مسلمہ کا روحانی ورثہ ہے جو ہمیں امن، یکجہتی، رحم اور عدل کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے روحانی پروگرام امتِ مسلمہ میں اتحاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور قرآنی اقدار کے فروغ کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں.
پاکستان رائٹرز کلب (PWC) کے صدر انجینئر نوید الرحمن نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس بابرکت محفل کا مقصد نوجوان نسل میں قرآن پاک کی تعلیم سے محبت اور لگن کو فروغ دینا ہے۔ قرآن مجید مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس سے وابستگی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے.
سرپرستِ اعلیٰ فیض احمد نجدی، زبیر احمد بھٹی، ڈاکٹر تعظیم حسین اور دیگر مقررین نے کہا کہ ایسے روح پرور پروگرام نئی نسل کو قرآن مجید کی تعلیمات سے روشناس کرانے اور ان کی عملی زندگی میں قرآنی اصول اپنانے کا بہترین ذریعہ ہیں.
مقابلے کے نتائج کے مطابق بچوں میں پہلی پوزیشن فہد واقف اللہ، دوسری پوزیشن زید احمد جبکہ تیسری پوزیشن معاویہ جمیل اور ارحم اقبال نے حاصل کی۔ بچیوں میں پہلی پوزیشن فاطمہ علی، دوسری پوزیشن عائشہ ریحان اور تیسری پوزیشن خولہ ہاشم نے حاصل کی.
تقریب کے اختتام پر نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں اور بچیوں کو نقد انعامات، شیلڈز، تعریفی اسناد اور دیگر انعامات سے نوازا گیا، جبکہ شرکاء اور والدین نے اس بامقصد اور روحانی تقریب کو بے حد سراہا.







