Saudi Arabia imposes travel ban on new corona virus 631

چھٹی پر واپس اپنے ممالک سے واپس سعودی عرب نہ آنے والے غیر ملکی کارکن اورتارکین کے اہل خانہ

( سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

ایک شخص نے سوال کیا کہ خروج وعودہ کے قانون کے حوالے سے جوازت سے دریافت کیا کہ اگر خروج وعودہ ویزے پر اپنے ملک جا کر بحالت مجبوری وقت مقررہ پرواپس نہ آئے تو اس کا سٹیٹس کیا ہوگا علاوہ ازیں دوبارہ سعودی عرب آنے کا کیا طریقہ ہے.
جوازات کا کہنا تھا کہ خروج وعودہ پرجا کر مقررہ وقت پرواپس نہ آنے والوں کو “خرج ولم یعد ” کی کیٹگری میں شامل کردیا جاتا ہے جس کے بعد ایسے افراد کو مملکت میں تین برس کےلیے بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے.
اس کے بعد وہ مذکورہ مدت تک ورک ویزے پرمملکت نہیں آسکتے البتہ حج و عمرہ ویزے پرآنے کی اجازت ہوتی ہے.
مذکورہ کیٹگری میں شامل افراد اگر مقررہ مدت کے دوران آنا چاہئیں تو وہ اپنے سابق کفیل کے ویزے پر ہی آسکتے ہیں بصورت دیگر تین برس مکمل ہونے کے بعد دوسرے ورک ویزے پر آنے کی اجازت ہوتی ہے.
خروج وعودہ یعنی ایگزٹ ری انٹری ویزے پرجا کرواپس نہ آنے کی وجہ سے ویزا ضائع ہوتا ہے جس کے سبب آجر یا کفیل کو اس کے مقابل دوسرا ویزہ نکالنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
وزارت صحت کے مطابق ایسے افراد جنہوں نے ویکسین کی دوسری خوراک چھ ماہ قبل لگوائی ہے انہیں بوسٹر ڈوز کےلیے کہا جارہا ہے.
ایک شخص نے جوازات کے ٹوئٹر پردریافت کیا “گھریلوڈرائیورجو اپنے ملک گیا ہوا ہے اس نے وہاں پر کورونا کی دونوں ویکسینز لگوائی ہیں اور سعودی وزارت صحت میں بھی سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اس صورت میں وہ براہ راست مملکت آسکتا ہے؟
جوازات کا کہنا تھا کہ ان ممالک سے جہاں سے مسافروں کے براہ راست آنے پر پابندی عائد ہے وہاں سے صرف وہی افراد براہ راست مملکت آسکتے ہیں جنہوں نے سعودی عرب سے جانے سے قبل کورونا وائرس سے بچاو کےلیے دونوں ویکسین لگوائی ہوئی ہیں.
جبکہ وہ افراد جنہوں نے سعودی عرب سے باہر پابندی والے ملک میں ویکسین لگوائی ہے وہ کسی ایسے ملک میں 14 دن گزارنے کے بعد مملکت آسکتے ہیں جہاں سے مسافروں کی آمد پرپابندی عائد نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں