ابک قطرہ خون گرنے سے پہلے قبول ہونے والا عمل، قربانی 470

‏استاد روشن مستقبل کے مصور

‏استاد روشن مستقبل کے مصور
(‏تحریر: چوہدری عطا محمد نت ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )
‏انسان کی درسگاہِ اوّل اس کی ماں کی گود ہے جہاں وہ پہلا لفظ ادا کرنا سیکھتا ہے اور پھر تربیت کے مراحل طے کرتا ہے۔ پھر ماں ہی اس بچے کو زمانے کی گرم و سرد سے مانوس کرنے کے لئے اپنے لختِ جگر کو استادکے حوالہ کر دیتی ہے۔ انسان ابتدائی طور پر ایک بے قیمت پتھر ہوتا ہے۔جس پر تراش خراش کر کے استاد اسے ہیرا بنا دیتا ہے۔ ماں باپ جس بچے کو انگلی پکڑ کر قدم قدم چلنا سکھاتے ہیں استاد اسے دنیا کا سامنا کرنا سکھاتا ہے اور پھر آفاق کی بلندیوں میں اُڑنا سکھا دیتا ہے۔

‏تعلیم کا یہ سلسلہ ابتدائے آفرینش سے قائم و دائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ بنی نوع انسان کی ہر طرح کی ضرویات پوری کرنے کے متعلق اس دنیا میں سامان مہیا کیے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انسان کو باشعور کرنے کے لئے اسے علم جیسی لازوال دولت عطا کی۔ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی خود کلمات اور اسماء سکھائے۔ فرمایا کہ : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقرة:31) کہ اللہ نے آدم کو تمام کے تمام اسماء سکھائے۔پھر اس زمانے کی آخری شریعت کی ابتداء بھی انہی الفاظ میں کی کہ
‏اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ o (العلق: 1)
‏یعنی اللہ کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا ! پھر فرمایا کہ:
‏الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِo عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْo (العلق:4-5)
‏یعنی جس نے قلم کے ساتھ سکھایا ۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

‏اس زمانے  کے سب سے بڑے معلم رسول کریم ﷺ نے بنی نوع کو ایسی تعلیم دی کہ وہ عرب کے لوگ پُشتوں کے بگڑے ہوئے جاہل اور اُجڈ تھے ، معمولی باتوں پر کئی سالوں تک جنگیں کرتے رہے،ایسی قوم کو علم کی بدولت فرش سے اُٹھا کر  عرش پر بٹھا دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ إنَّمَا بُعِثْتُ مُعلِّـمًا(ابن ماجه: 229) کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ۔
‏استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہرومحبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گم راہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔ استاد، ایک معمولی سے آدمی کو آسمان تک پینچا دیتا ہے۔  استاد مینار نور ہے جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں بلندی پر پہنچادیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسان ادھورا ہے

‏خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں

‏معاشرے میں جہاں ماں باپ کا کردار بچے کے لیے اہم ہے، وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ماں باپ بچوں کو لَفظ بہ لفظ سکھاتے ہیں، ان کی اچھی طرح سے نشوونما کرتے ہیں، ان کو اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں مگر استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتا ہے، آدمی کو حیوانیت کے چُنگل سے نکال کر انسانیت کے گُر سے آشنا کرواتا ہے

‏کوئی فن استاد کے بغیراستاد کو والدین کے بعد سب سے زیادہ محترم حیثیت حاصل ہے، بادشاہ ہوں یا سلطنتوں کے شہنشاہ، خلیفہ ہوں یا ولی اللہ سبھی اپنے استاد کے آگے ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آئیں گے۔ مشہور ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دو صاحبزادے امام نسائی کے پاس زیرِ تعلیم تھے۔ ایک بار استاد کے جانے کا وقت آیا تو دونوں شاگرد انہیں جوتے پیش کرنے کے لیے دوڑے، دونوں ہی استاد کے آگے جوتے پیش کرنا چاہتے تھے، یوں دونوں بھائیوں میں کافی دیر تک تکرار جاری رہی اور بالآخر دونوں نے ایک ایک جوتا استاد کے آگے پیش کیا۔ خلیفہ ہارون رشید کو اِس واقعے کی خبر پہنچی تو بصد احترام امام نسائی کو دربار میں بلایا۔مامون رشید نے امام نسائی سے سوال پوچھا کہ، “استادِ محترم، آپ کے خیال میں فی الوقت سب سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہے مامون رشید کے سوال پر امام نسائی قدرے چونکے۔ پھر محتاط انداز میں جواب دیا،میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ احترام کے لائق خلیفہ وقت ہیں خلیفۂ ہارون کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ اتری اور کہا کہ ہرگز نہیں استادِ محترم سب سے زیادہ عزت کے لائق وہ استاد ہے جس کے جوتے اٹھانے کے لیے خلیفۂ وقت کے بیٹے آپس میں جھگڑیں۔
‏استاد ہمیشہ اپنے شاگرد کو اچھا بنتا دیکھنا چاہتا ہے اسے ایک شاگرد سے کچھ لینا مقصد نہین ہوتا اور نہ ہی کوئی لالچ ہوتی ہے بلکہ اس کی کامیابی کی خواہش نے اس کے دل میں گھر کیا ہوتا ہے۔ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہکان کی تدریس سے پتھربھی پگھل سکتے ہیںجناب امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں میں ہر نماز کے بعد اپنے استاد اور والد محترم کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں اور میں نے کبھی بھی اپنے استاد محترم کے گھر کی طرف اپنے پاؤں دراز نہیں کیے، حالاں کہ میرے گھر اور ان کے گھر کے درمیان سات گلیاں واقع ہیں اور میں ہر اس شخص کے لیے استغفار کرتا ہوں جس سے میں نے کچھ سیکھا ہے یا جس نے مجھے علم پڑھایا    

‏ استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے ۔ اساتذہ اپنے آج کو قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ استاد کی عزت کیوں نہ کی جائے استاد کی محنت کی وجہ سے انسان بلندیوں تک پہنچتا ہے اور حکمرانی کی گدی پر جلوہ نشین ہوتا ہے استاد ہی کی محنت  کی وجہ سے وہ آسمانوں کی سیر کرتا ہے۔ بغیر استاد کے انسان اس اندھے کی مانند ہے جو بغیر سہارے کے سفر میں نکل جاتا ہے۔اللہ تعالی ہمیں بھی اپنے اساتزہ کی قدردانی کرنے کی توفیق عطا فرماہے آمین  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں