انٹرویواہم خبریںبین الاقوامیبین الاقوامی خبریںپاکستانتصاویر اور مناظردلچسپ و عجیبملٹی میڈیا

بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا کروڑوں افراد کیلئے سنگین خطرہ ہے: فرانسیسی اخبار

اسٹاف رپورٹ : پی این پی نیوز ایچ ڈی

فرانس کے معروف روزنامے لا مونڈے نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا کروڑوں افراد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے.

لا مونڈے نے اپنی رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے کو جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازع کو مزید شدت دی.

دریاؤں کے بہاؤ، آبی ذخائر کے انتظام اور ہائیڈرولوجیکل معلومات کے تبادلے سے متعلق اقدامات نے پانی کو خطے کی جغرافیائی سیاست کا ایک اہم عنصر بنا دیا ہے.

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، خوراک کی پیداوار اور توانائی کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، اس لیے آبی بہاؤ میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی کے براہِ راست اثرات لاکھوں افراد کی زندگیوں اور معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں.

لا مونڈے کے مطابق بین الاقوامی قانونی فورمز کی حالیہ آراء بھی اس بحث کو تقویت دے رہی ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور قابلِ عمل بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا.

رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت سیاسی اعلانات کے بجائے قانونی اصولوں اور طے شدہ ذمہ داریوں سے متعین ہوتی ہے، ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی قلت مستقبل کے بڑے چیلنجز ہیں.

خیال رہے کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ اگرچہ کئی دہائیوں تک مؤثر رہا، تاہم بدلتے موسمی اور آبادیاتی حالات نئے مسائل کو جنم دے رہے ہیں جن کے لیے مزید تعاون اور جدید انتظامی طریقہ کار کی ضرورت ہوگی.

لا مونڈے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی کہ سرحد پار آبی وسائل کا معاملہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بالائی اور زیریں کنارے کے ممالک کے درمیان اسی نوعیت کے خدشات موجود ہیں، اس تناظر میں آبی وسائل کا منصفانہ استعمال، معلومات کا تبادلہ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے.

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی میڈیا، بین الاقوامی قانونی اداروں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی بحث اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پانی کا مسئلہ مستقبل میں جنوبی ایشیا کی سلامتی، معیشت اور علاقائی تعاون کے اہم ترین موضوعات میں شامل رہے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں۔
Close
error: مواد محفوظ ہے