سی پیک دُنیا کا سب سے بڑا اقتصای و ترقیاتی منصوبہ 374

اسی کے پاس سب کو جاناں ہے

تحریر: فاطمہ بلوچ
جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اپنا ہاتھ مبارک پانی میں ڈال کر اپنے چہرہ انور پر پھیرنے لگے۔اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم فرمارہے تھے:
“اے اللّٰہ!موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔”
سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم پر بےچینی کے آثار دیکھے تو میں پکار اٹھی:
“ہائے میرے والد کی بے چینی!”
یہ سن کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“آج کے بعد پھر کوئی بےچینی تمہارے باپ کو نہیں ہوگی۔”
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وفات کے وقت جو اس قدر تکلیف اور بےچینی کے آثار ظاہر ہوئے،اس میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت ہے…یہ کہ اگر کسی مسلمان کو موت کے وقت اس طرح کی تکلیف اور بےچینی ہو تو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تکلیف کو یاد کرکے خود کو تسلی دے سکتا ہے۔یعنی دل میں کہہ سکتا ہے کہ جب اللّٰہ کے رسول پر موت کے وقت اتنی تکلیف گذری تو میری کیا حیثیت ہے؟یوں بھی موت کی سختی مومن کے درجات بلند ہونے کا سبب بنتی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں: “آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر موت کی تکلیف کے بعد اب میں کسی پر بھی موت کے وقت سختی کو ناگوار محسوس نہیں کرتی۔”
جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو تکلیف ہوتی تھی تو فرمایا کرتے تھے:
“اے تمام لوگوں کے پروردگار!یہ تکلیف دور فرمادے اور شفا عطا فرمادے کہ تو ہی شفا دینے والا ہے،تیری دی ہوئی شفا ہی اصل شفا ہے جس میں بیماری کا نام و نشان نہیں ہوتا۔”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی الله علیہ وسلم کی بےچینی بڑھی تو میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور دعا کے یہی کلمات پڑھ کر دم کرنے لگی۔پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک کھینچ لیا اور یہ دعا پڑھی:
” اے اللّٰہ! میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ عطا فرما۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو جب بھی کوئی تکلیف ہوتی عافیت اور شفا کی دعا کیا کرتے تھے۔لیکن جب مرض وفات ہوا تو اس میں شفا کی دعا نہیں مانگی۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ اس حالت میں میرے بھائی عبدالرحمن رضی الله عنہ آئے،ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اس مسواک کو دیکھنے لگے۔میں سمجھ گئی کہ مسواک کی خواہش محسوس کررہے ہیں، کیونکہ مسواک کرنا آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت پسند تھا،چنانچہ میں نے پوچھا:
“آپ کو مسواک دو۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے سر مبارک سے ہاں کا اشارہ فرمایا۔میں نے مسواک دانتوں سے نرم کر کے دی۔اس وقت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم مجھ سے سہارا لیے ہوئے تھے۔ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں:
“میرے اوپر اللّٰہ کے خاص انعامات میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا انتقال میرے گھر میں ہوا۔آپ کا جسم مبارک اس وقت میرے جسم سے سہارا لیے ہوا تھا۔وفات کے وقت اللّٰہ تعالیٰ نے میرا لعاب دہن آپ صلی الله علیہ وسلم کے لعاب دہن سے ملادیا، کیونکہ اس مسواک کو میں نے نرم کرنے کے لیے چبایا تھااور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس سے اپنے دانتوں پر پھیرا تھا۔”
حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی تو سب ازواج مطہرات آس پاس جمع ہوگئیں۔
مرض کے دوران آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے چالیس غلام آزاد فرمائے۔گھر میں اس وقت چھ یا سات دینار تھے۔حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کو حکم دیا کہ ان دیناروں کو صدقہ کردے…ساتھ ہی ارشاد فرمایا:
“محمد اپنے رب کے پاس کیا گمان لے کر جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے ملاقات ہو اور یہ مال اس کے پاس ہو۔”
سیدہ عائشہ رضی الله عنہا نے اسی وقت ان دیناروں کو صدقہ کردیا۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بیماری سے چند روز پہلے حضرت عباس رضی الله عنہ نے خواب دیکھا تھا کہ چاند زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف چلا گیا۔انہوں نے حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کو خواب سنایا تھا…خواب سن کر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
“اے عباس!وہ تمہارا بھتیجا ہے۔”
یعنی یہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی وفات کی طرف اشارہ تھا۔
اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو بے پناه محبت تھی۔علالت کے دوران آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا۔وہ تشریف لائیں تو ان کے کان میں کچھ باتیں کیں،وہ سن کر رونے لگیں،پھر ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں۔بعد میں انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کو بتایا کہ پہلے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسی مرض میں وفات پا جاؤں گا،یہ سن کر میں رو پڑی…دوسری بار فرمایا کہ خاندان میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی۔یہ سن کر میں ہنس پڑی۔
چنانچہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے انتقال کے کچھ عرصے بعد سب سے پہلے آپ صلی الله علیہ وسلم کے گھرانے میں حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کا ہی انتقال ہوا۔
وفات سے ایک یا دو دن پہلے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا:
“یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو،انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو عبادت گاه بنالیا۔”
یہ بھی فرمایا کہ یہودیوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دو اور فرمایا:
“لوگو!نماز…نماز…نماز کے بارے میں اللّٰہ سے ڈرو اور اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔”
وفات سے پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام ملک الموت کے ساتھ آئے۔انہوں نے عرض کیا:
“اے محمد صلی الله علیہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ آپ کے مشتاق ہیں۔”
یہ سن کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“تو حکم کے مطابق میری روح قبض کرلو۔”
ایک روایت کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام ملک الموت کے ساتھ آئے تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا تھا:
“اے اللّٰہ کے رسول!یہ ملک الموت ہیں اور اور آپ سے اجازت مانگتے ہیں…آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی سے اجازت مانگیں گے۔کیا آپ انہیں اجازت دیتے ہے؟۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔تب عزرائیل علیہ السلام اندر آئے۔انہوں نے آپ کو سلام کیا،اور عرض کیا:
“اے اللّٰہ کے رسول اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔اگر آپ مجھے حکم دیں کہ میں آپ کی روح قبض کروں تو میں ایسا ہی کروں گا اور اگر آپ حکم فرمائیں کہ چھوڑ دو تو میں ایسا ہی کروں گا۔ ”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:
“کیا تم ایسا کرسکتے ہو کہ روح قبض کیے بغیر چلے جاؤ؟ ”
انہوں نے عرض کیا:
“ہاں!مجھے یہی حکم دیا گیا ہے۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو انہوں نے عرض کیا:
“اے اللّٰہ کے رسول!اللّٰہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“مجھے اپنے پروردگار سے ملاقات عزیز ہیں۔”
پھر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے فرمایا:
“تمہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے،اس کو پورا کرو۔”
چنانچہ ملک الموت نے نبی آخر الزماں صلی الله علیہ وسلم کی روح قبض کرلی انا لله و انا الیه راجعون۔
اس روز پیر کا دن تھا اور دوپہر کا وقت تھا۔تاریخ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔معتبر قول کے مطابق ربیع الاول کی 9 تاریخ تھی۔وفات کے فوراً بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ کو اطلاع بھیجی گئی…وہ فوراً آئے۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،انہوں نے آتے ہی رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو بوسہ دیا۔اور یہ الفاظ کہے:
“آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔آپ زندگی میں بھی پاک اور مبارک تھے اور موت کی حالت میں بھی پاک اور مبارک ہیں،جو موت آپ کو آنا تھی آچکی،اب اللّٰہ تعالیٰ آپ کو موت نہیں دیں گے۔”
باہر صحابہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔حضرت عمر رضی الله عنہ کی حالت اتنی پریشان کن تھی کہ مسجد نبوی کے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے،اور لوگوں کو مخاطب ہوکر کہنے لگے:
“اللّٰہ کی قسم!رسول اللّٰہ کا انتقال نہیں ہوا…رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کی وفات اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وہ منافقوں کے ہاتھ پیر نہیں توڑ دیں گے۔اور اگر کسی نے یہ کہا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوگئی ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا… بعض منافق یہ کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں،حالانکہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ اسی طرح اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام گئے تھے اور پھر چالیس راتوں کے بعد اپنی قوم میں واپس آگئے تھے،جب کہ لوگ ان کے بارے میں کہنے لگے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔اللّٰہ کی قسم!رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم بھی اسی طرح واپس تشریف لائیں گے جیسے موسیٰ علیہ السلام لوٹ آئے تھے…پھر ان لوگوں کے ہاتھ پیر کٹوائیں گے۔”
حضرت عمر رضی الله عنہ غم کی زیادتی کی وجہ سے ابھی یہ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ تشریف لائے اور منبر پر چڑھے۔انہوں نے بلند آواز میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
“لوگو!جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا،وہ جان لے کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔”
یہ کہہ کر انہوں نے سورۃ آل عمران کی آیت 44 تلاوت فرمائی۔اس کا مفہوم یہ ہے:
“اور محمد رسول ہی تو ہیں۔ان سے پہلے اور بھی بہت رسول گذر چکے ہیں۔سو اگر ان کا انتقال ہوجائے یا وہ شہید ہوجائے تو کیا تم لوگ الٹے پھر جاؤ گے…اور جو شخص الٹے پیروں پھر بھی جائے گا تو اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور اللّٰہ تعالیٰ جلد ہی حق شناس لوگوں کو بدلہ دے گا۔”
حضرت عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں۔
“یہ آیت سن کر مجھے لگا جیسے میں نے آج سے پہلے یہ آیت سنی ہی نہیں تھی۔”
اس کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ،صَلَوَٰتٌۭ وَسَلَامٌ عَلَى رْسَولِہ صلی الله علیہ وسلم
(بے شک ہم سب اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم پر درود و سلام ہو۔)
حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ نے قرآن کریم کی اس آیت سے سب کے لیے موت کا برحق ہونا ثابت فرمایا اور فرمایا:
“اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔
“آپ کو بھی مرنا ہے اور انہیں( عام مخلوق کو)بھی مرنا ہے۔”( سورۃ الزمر : آیت 30)
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے ہاتھ پر تمام مسلمانوں نے بیعت کرلی۔اس کے بعد لوگ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔
(اور یہ کس قدر حیرت انگیز اتفاق ہے کہ یہ قسط ربیع الاول کی انہی تاریخوں میں شائع ہورہی ہے…جن میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوئی،یہ قدرتی ترتیب اسی طرح بن گئی ورنہ میرا ایسا کوئی باقاعدہ ارادہ نہ تھا۔)
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو غسل دیا گیا۔ غسل حضرت علی،حضرت عباس اور ان کے بیٹوں فضل اور قثم رضی الله عنہم نے دیا۔حضرت فضل اور حضرت اسامہ رضی الله عنھما غسل دینے والوں کو پانی دے رہے تھے۔غسل کے وقت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی قمیص نہیں اتاری گئی۔غسل کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن کا دیا گیا، عود وغیرہ کی دھونی دی گئی۔اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو چار پائی پر لٹاکر ڈھانپ دیا گیا۔
نماز جنازہ کی کسی نے امامت نہیں کی۔سب نے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھی ۔یعنی جتنے لوگ حجرہ مبارک میں آسکتے تھے،بس اتنی تعداد میں داخل ہوکر نماز ادا کرتے اور باہر آجاتے،پھر دوسرے صحابہ اندر جاکر نماز ادا کرتے۔
حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر رضی الله عنہ چند دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ حجرے میں داخل ہوئے تو ان الفاظ میں سلام کیا۔

پھر تمام مہاجرین اور انصار نےبھی اسی طرح سلام کیا۔نماز جنازہ میں سب نے چار تکبیرات کہیں۔
انصاری حضرات سقیفہ بنی ساعدہ( ایک جگہ کا نام)میں جمع ہورہے تھے تاکہ خلافت کا فیصلہ کیا جائے۔کسی نے اس بات کی خبر حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنھما کو دی۔یہ دونوں حضرات فوراً وہاں پہنچے،اور خلافت کے بارے میں ارشاد نبوی سنایا۔
خلافت کا مسئلہ طے ہوگیا تو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو دفن کرنے کا مسئلہ پیدا ہوا…سوال یہ کیا گیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟اس موقع پر بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ آگے آئے اور فرمایا:
“آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو وہیں دفن کیا جائے گا جہاں وفات ہوئی ہے…
میرے پاس ایک حدیث ہے… میں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کی روح اسی جگہ قبض کی جاتی ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب جگہ ہوتی ہے۔
چنانچہ یہ بات طے ہوگئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ دفن کیا جائے۔
اب یہ سوال اٹھا کہ قبر کیسی بنائی جائے،بغلی بنائی جائے یا شق کی۔۔۔اس وقت مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحۃ بن زید بن سہل رضی اللہ عنہ بغلی قبر کھودا کرتے تھے اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح شق کی قبر کھودتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ان دونوں کو بلالاؤ۔۔۔ان میں سے جو پہلے پہنچے گا، اسی سے قبر بنوالی جائے گی۔
ان کی طرف آدمی بھیجنے کے ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:
اے اللہ!اپنے رسول کے لئے خیر ظاہر فرما۔
حضرتابوطلحہ رضی اللہ عنہ پہلے آئے،چنانچہ بغلی قبر تیار ہوئی۔ایک حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بغلی قبر ہی کا حکم فرمایا تھا۔ حضرت عباس،حضرت علی،حضرت فضل،حضرت قثم اور حضرت شقران رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں اتارا۔
حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے قبر میں ایک سرخ رنگ کا کپڑا بچھایا۔یہ وہی سرخ کپڑا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے وقت اونٹ کے پالان پر بچھاتے تھے۔یہ کپڑا اس لئے بچھایا گیا کہ وہاں نمی تھی۔اس وقت حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے:
خدا کی قسم!آپ کے بعد اس کپڑے کو کوئی نہیں پہن سکے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین منگل اور بدھ کی درمیانی رات میں ہوئی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس روز ہم سب ازواج ایک جگہ جمع ہوکر رورہی تھیں۔ہم میں سے کوئی سو نہ سکا۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان دی۔ اذان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آیا تو سارا مدینہ رونے لگا۔لوگ اس قدر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔اس سے بڑا صدمہ ان پر کبھی نہیں گذرا تھا اور نہ آئندہ کبھی کسی پر گذرے گا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
تمہارے دلوں نے کیسے برداشت کرلیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟۔
اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہاں!لیکن اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پھیرنے والا کوئی نہیں۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ آدمی اسی مٹی میں دفن ہوتا ہے جہاں سے اس کا خمیر اٹھایاجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اور حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر رضی اللہ عنہما ایک ہی جگہ کی مٹی سے تخلیق کئے گئے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بھوکی پیاسی مر گئی۔
علمائےاسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دفن ہیں،وہ جگہ روئے زمین میں تمام مقامات سے افضل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واقعۂ فیل والے سال میں پیدا ہوئے۔۔۔یعنی جس سال ابرہہ بادشاہ نے کعبہ پرچڑھائی کی تھی۔اس واقعہ کے چالیس یا پچاس دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت صبح طلوع فجر کے وقت ہوئی۔وہ پیر کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اس روز معتبر قول کے مطابق 9 تاریخ تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی اور اس روز بھی ربیع الاول کی نو یا بارہ تاریخ تھی۔
اے اللہ درود وسلام ہو اس ذات پر کہ جس نے کفر وشرک کے اندھیروں میں شمع ہدایت روشن کی اور جن کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔وہ تیرے بندے اور رسول اور ہمارے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کامل ہے۔ میدان حشر میں ہمیں ان کے گروہ میں شامل فرما اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث کے خادموں میں داخل فرما۔آمین۔ سوائے اللہ رب العزت کی ذات عظیم کے کسی کو دوام حاصل نہیں۔
وصلی اللہ علی النبی الامی وعلی الہ واصحابہ اجمعین۔
۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ اس قسط کے ساتھ ہی سیرت النبی قدم بہ قدم کا یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔اسے جس قدر پسند کیا گیا،اس پر اللہ کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے، اس میں تقریبا دو سال لگے۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک کے ان گنت پہلو پھر بھی اس میں شامل نہ ہوسکے۔۔۔۔اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔۔۔ دنیا کے تمام انسان تمام عمر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک پر لکھتے رہیں،تب بھی حق ادا نہیں ہوسکتا۔۔۔موجودہ حالات کا تقاضا ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عام کیا جائے، قول سے، عمل سے یا جس طرح بھی بن پڑے یہ کام ضرور کیا جائے۔ اس وقت انسانیت کو کسی آئیڈیل کی تلاش ہے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات ہوسکتی ہے۔ بقول ذکی کیفی۔۔۔
تنگ آجائے گی خود اپنے چلن سے دنیا
تجھ سے سیکھے گا زمانہ ترے انداز کبھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں