بلدیاتی حکومتیں جمہوریت کی نرسریاں شور نہیں شعور قسط انچاس 222

کیا پاکستان میں جمہوریت چل سکتی ہے؟

‏تحریر: ڈاکٹر زین اللہ خٹک

جمہوریت صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فلسفہ حیات ہے۔ آج سے ہزاروں سال پہلے جب یونانی معاشرے میں بہت زیادہ سماجی اور معاشرتی مسائل تھے۔ تو کلیسٹینز نے ایک لائحہ عمل تیار کیا۔ تاکہ یونان کے معاشرے میں موجود تمام مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اس لائحہ عمل کو demokratia کا نام دیا گیا۔ اس کا مطلب ” لوگوں کی طاقت” کیونکہ معاشرہ لوگوں سے تشکیل پاتا ہے۔ لہذا معاشرے کی اصل قوت و طاقت عوام ہیں۔اس لائحہ عمل کے تحت تمام بالغ اور عاقل لوگوں کو شراکت داری کا حق دیا گیا۔اس لائحہ عمل کے تحت تمام شہری برابر تصور کیے جاتے تھے ۔ کوئی فرد کسی بھی حیثیت سے قانون اور قواعد سے بالاتر نہیں تھا۔ اس لائحہ عمل کے تحت معاشرے میں مساوات کا نظام قائم تھا۔ اس لائحہ عمل کے تحت تمام شہری اسمبلی میں شرکت کرتے تھے۔ اپنے فیصلے خود کرتے تھے۔ قاعدے اور قواعد خود ترتیب دیتے تھے۔ تمام معاملات معاشرتی زندگی سے لیکر جنگ اور فارن پالیسی تک سب لوگ ملکر کرتے تھے۔ کوئی اونچ نیچ کا نظام نہیں تھا۔اس لائحہ عمل کے تحت دوسو سال تک یونان کی حکومت فیصلے کرتی رہی۔ یوں جمہوریت صرف حکمرانی تک محدود نہیں بلکہ یہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس کے ذریعے معاشرے میں مساوات قائم کی جاتی ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے قائدِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کی تحریک چلائی۔ یہ تحریک جمہوریت کی بنیاد پر چلائی گئی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آزادی کے بعد ہم نے جمہوریت سے منہ موڑ لیا۔ ملک کے 74 سالوں میں زیادہ تر غیر جمہوری مارشلز کی حکومتیں قائم رہی۔ پہلی بار 1970 میں انتخابات منعقد ہوگئے۔ لیکن افسوس کہ ہم جمہوریت پسند نہیں لہذا پہلے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ جس کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ ہوگیا۔ دوسری بار 1977 انتخابات کے بعد مارشل لاء، 90 کی دہائی میں ٹوٹتی پوٹتی جمہوری حکومتیں، 1999 میں پھر مارشل لاء پہلی بار اسمبلی نے آئینی مدت 2008 میں مکمل کیا۔آخر وہ کو نسی وجوہات ہیں۔ جن کی بنیاد پر پاکستان میں جمہوریت نہیں چل سکی۔ پہلی اور اہم وجہ خاندانی سیاست ہے۔ تیسری دنیا کے زیادہ تر ممالک میں جمہوریت کے نام پر خاندانی حکمرانی قائم ہے۔ پاکستان میں 44 خاندان ہے۔جو سیاست اور سیاسی نظام پر چھائے ہوئے ہے۔ کبھی ایک تو کبھی دوسرے نظریے کے نام پر پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں خاندانی کاروبار کا فروغ شامل ہیں۔ہر حکومت میں ان کے مفادات کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔یہاں جمہوریت کے نام پر بدترین ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ عام لوگوں کی سیاست میں آنے کی گنجائش بہت کم ہے۔کیونکہ ان خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ یہاں برصغیر پاک و ہند میں گاندھی، بھٹو، میاں، خان، گیلانی، وغیرہ بے شریک غیر حکومت کو گھر کی دیوی سمجھتے ہیں۔غریب لوگوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ سیاست میں نہ آئے ۔ ان خاندانوں نے مذہبی طبقہ مولویوں، پیروں، سیدوں کی گھٹ جوڑ بنا رکھی ہیں۔ عام عوام کو مذہبی کارڈ کے ذریعے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ہم روایت پسند معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہاں پر ہمیشہ فیصلے زبردستی توپیں جاتے ہے۔ گھروں میں فیصلہ سازی سے لیکر ملکی سطح تک چند “بااثر” لوگ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھروں میں عام طور پر جن کی کمائی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ فیصلے صادر کرتے ہیں۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں میں “بااثر” افراد فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں مساوات کے نظام کے قیام میں بہت ساری رکاوٹیں کھڑی ہے۔جن کی وجہ یہاں جمہوری روایات کا فقدان ہے۔یہاں دولت مند اور طاقتور کے آگے مکمل نظام بے بس ہے۔ عدالتوں، کچہریوں ، اور سرکاری اداروں میں باخوبی ہوتا ہے۔ یہاں جمہوریت صرف الیکٹورل کی حد تک قائم ہے۔ اس سے 2 فیصد طبقہ کو سہولیات حاصل ہے۔ جبکہ 98 فیصد عوام کو آزادی لبرل حاصل نہیں۔ دو فیصد 98 فیصد عوام کے لیے فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر لبرل جمہوریت ملک میں نافذ کی جائے۔ چونکہ پاکستان تیسری دنیا کا ایک غریب ملک ہے۔ یہاں جمہوریت کے نام پر خاندانی حکمرانی قائم ہے۔ جن کو مولیوں، پیروں، گدی نشینوں، سیدوں اور مافیاز کی سرپرستی حاصل ہے۔ ملک میں جمہوریت کے نام پر کھیل تماشا ہے۔ اس کو جمہوریت کہنا زیادتی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت چل سکتی ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت اور جمہوری نظام کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے۔ جہاں 98 فیصد عوام کو مکمل اختیار ہو۔ جہاں بنیادی حقوق کو تحفظ حاصل ہو۔ جہاں آزادی فکر و تحریر ہو۔ جہاں کمزور قومیتوں کو آواز مل سکے۔ جہاں عورتوں کو جائیداد اور تعلیمی آزادی ملے۔ جہاں ووٹ کا حق سب شہریوں کو ملے۔ جہاں خاندانی سیاست کی بجائے نظریاتی سیاست کو فروغ ملے۔ جہاں ووٹ پیسوں پر نہیں بلکہ میرٹ کی بنیاد پر ہو۔ جہاں اسمبلیوں میں ووٹوں کی خریداری پر پابندی ہو۔ جہاں اسمبلیوں میں کارکردگی کی بنیاد پر بحث ومباحثہ ہو۔ جہاں کسی کی ماں بہن کو گالیاں دینے کے بجائے انکی کارکردگی زیر بحث ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں