آزاد کشمیر کا معرکہ 378

آزاد کشمیر کا معرکہ

تحریر زبیر خان بلوچ سعودی عرب

جس طرح سے پچھلے مہینے سے آزاد کشمیر الیکشن کی گہما گہمی تھی۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز شروع میں ایسی دکھائی دے رہی تھی کہ بہت کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔لیکن جب رزلٹ آیا تو ٹی آئی کی واضح برتری تقریبا 21 سے 23 سیٹوں پر کامیاب ہوئی ۔اور پیپلز پارٹی کی 4 اور مسلم لیگ نواز نے 5 سیٹیں لیں جو کہ ان کی نہیں تھی وہ ان نمائندگوں کی تھی جن کا ان کے اپنے علاقے میں اچھا اثر رسوخ تھا۔
کیا وجہ بنی کہ یہ مسلم لیگ نواز کی اتنی کم سیٹیں کیوں ہوئی اس کی سب سے بڑی وجہ مریم نواز صاحبہ کی ہے جس طرح سے انہوں نے کشمیر میں تقریر کی اور آزاد کشمیر کو اس کا حصہ نہیں بنایا ۔اور اس کے علاوہ آج تک ان کے والد صاحب یا مریم بی بی کے منہ سے کشمیریوں کے لیے کوئی لفظ بھی آج تک نہیں نکلا دوسری وجہ یہ تھی کہ میاں محمد نواز شریف کو کشمیری جانتے تھے جس طرح انہوں نے اپنی حکومت میں نریندر مودی کو بنا ویزے کے پاکستان بلوایا اور جب وہ انڈیا دورے پر گئے تھے تو کشمیری رہنماؤں سے نہیں ملے تھے بلکہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں ہی میٹنگ کرتے رہے ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف ہمیشہ پاکستان آرمی کے خلاف بات کرتے رہے ہیں۔جبکہ آزاد کشمیر کے لوگ زیادہ تر پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس کو اپنا ملک اور دھرتی مانتے ہیں۔اور پچھلی حکومت میں مسلم لیگ نواز کے صدر آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اپنے اقتدار میں صرف سوتے رہے ہیں یا اپنے قائد نواز شریف کے نقشے قدم پر کرپشن پر کام کرتے رہے ہیں۔
دوسری طرف آتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ایک اچھا اثر رسوخ رہا ہے آزاد کشمیر میں جب محترمہ بینظیر بھٹو ہوتی تھی۔کشمیر کی آج کل کی لیڈرشپ اور پیپلز پارٹی اتنی ایکٹو نہیں رہی جتنا پہلے ہوتی تھی۔الیکشن سے کچھ دن پہلے محترمہ آصفہ بھٹو کو لانچ کیا گیا لیکن وہ بھی فیل ہو گئی جس طرح سے بلاول بھٹو فیل ہو چکے ہیں۔
اور آخر میں اس جیت کی سب سے جو اصل وجہ بنی وہ خود عمران خان ہے جس طرح سے عمران خان نے ہر فورم پر جموں کشمیر کا کیس اٹھایا اور ہر فورم اور ہر انٹرویو میں کشمیر کی بات کی اور یہ بات کشمیریوں کے دل پر لگی جس طرح سے عمران خان نے کہا کہ وہ کشمیر کا سفیر ہے اور اس کو ثابت بھی کر کے دکھایا۔الیکشن سے کچھ دن پہلے جو عمران خان کا دورہ تھا کوٹلی کشمیر کا جہاں پر عمران خان نے خطاب کیا وہ خطاب کشمیریوں کے دل اور دماغ کر گیا جو لوگ محترمہ مریم نواز کی کچھ غلط خطاب کی وجہ سے بھی ووٹ نہ دے رہے تھے۔وہ بھی پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر راضی ہوگئے۔
امید کی جاسکتی ہے کہ آب نیی پی ٹی آئی کی حکومت آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے کام کرے گی اور ثابت کر کے دکھائے گی جس طرح سے کے پی کے میں پی ٹی آئی اپنی ترقی اور کاموں کی وجہ سے دوبارہ حکومت میں آئی انشاءاللہ اگلی باری بھی وہاں پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی۔
انشاءاللہ عمران خان کی سربراہی میں وه دن دور نہیں جب پاکستان کا نام دنیا کے نقشے پر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں