Asif Ali Zardari's big revelation? "He forbade it, but he did not obey." 313

آصف علی زرداری کا بڑا انکشاف؟ “منع بھی کیا مگر وہ نہ مانی “

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بے نظیر کو پنڈی جلسے میں شرکت سے منع کیا تھا لیکن وہ نہیں مانی۔ انہوں نے گذشتہ روز بلاول ہاؤس لاہور میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی 68 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کیا اور کہا کہ موت بر حق ہے، بے نظیر کو پنڈی کے جلسے میں شرکت سے منع کیا تھا مگر وہ نہیں مانی تھیں۔
بے نظیر کو رات کو بتایا گیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے جس پر انہوں نے کہا کہ ان کو پکڑتے کیوں نہیں؟ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بے نظیر بے نظیر تھیں انہوں نے دنیا میں اپنی سوچ منوائی، دنیا بھر کے دانش مند آج بے نظیر بھٹو پر کتاب لکھ رہے ہیں۔ بے نظیر سال کےسب سے لمبے دن 21 جون کو پیدا ہوئی، بھٹو صاحب کہتے تھے یہ سورج کبھی غروب نہیں ہو گا۔
انہوں نے کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ جان آنی جانی ہے، آپ کی وجہ سے ہر مشکل کا مقابلہ کرسکتا ہوں، انسان بہت کمزورہے دعا کریں مولامجھے قبر تک ہمت دے۔ کافی برسوں کےبعد کارکنوں سے مل رہا ہوں، کبھی جیل تو کبھی اسپتال میں رہا۔ کارکنوں سے ملنا میرے لیے کسی تحفے سے کم نہیں ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اللہ نے بی بی کو اتنی ہمت دی تھی کہ کارکنوں کی مدد سے انہوں نے مشرف کو مکھی کی طرح نکال باہر کیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ بلاول کو کیا سکھا سکتا ہوں، مچھلی کو بھی کوئی تیرنا سکھا سکتا ہے؟ بلاول اپنی موج میں نئی نسل کو آگے لے کر چلے گا ، مشرف کو کارکنوں کی مدد سے مکھی کی طرح باہر نکالا، اب بھی ہرمشکل کا مقابلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کو پنجاب میں مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔
آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جیت کے لیے جنوبی پنجاب کے حوالے سے آصف علی زرداری نے سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کو جنوبی پنجاب میں پارٹی کو متحرک کرنے کی ہدایات دے رکھی ہیں۔ سابق صدر نے مخدوم احمد محمود کو پی ٹی آئی سے مایوس جنوبی پنجاب کے لوگوں سے رابطوں کی ہدایت کر دی جبکہ سابق صدر کے جنوبی پنجاب اور سنٹرل پنجاب کے اہم سیاستدانوں سے بھی رابطے ہوئے ، رابطوں میں آصف علی زرداری کو سیاستدانوں کی جانب سے مثبت جواب دیا گیا۔ اس کے علاوہ جہانگیر ترین گروپ کے کئی اہم رہنما بھی سابق صدر سے رابطوں میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں