شہباز شریف نے مصالحتی سیاست چھوڑ کر جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کرلیا ، ن لیگ کے صدر نے منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم 2 دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جائے ، عید کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف چاروں صوبوں کا دورہ بھی کریں گے ، پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے گا ۔ 231

حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے جارحانہ حکمت عملی تیار

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

شہباز شریف نے مصالحتی سیاست چھوڑ کر جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کرلیا ، ن لیگ کے صدر نے منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم 2 دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جائے ، عید کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف چاروں صوبوں کا دورہ بھی کریں گے ، پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے گا ۔
میڈیا ذرائع کہتے ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے جارحانہ حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے ، جس کے لیے چاروں صوبائی صدور اور عہدیداروں کو حکومت کے خلاف متحرک ہونے کی ہدایات دے دی گئی ہیں ، اس ضمن میں خاص طور پر منتخب لیگی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اسمبلیوں میں حکومت کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جائے ، حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو بھی خاص طور پر عوام کے سامنے لایا جائے ، اس مقصد کے لیے پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے جہاں لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور دیگر عوامی ایشوز پر حکومت کے خلاف ہونے والے اجتجاج میں بھرپور شرکت کی جائے اور عوامی احتجاج میں بتایا جائے کہ کس طرح ن لیگ نے ملک سے اندھیرے دور کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں