بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے، پاکستان کا وینزویلا کی صورتحال پر اظہار تشویش
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
پاکستان نے وینزویلا کے عوام کی فلاح وبہبود کو اہم قراردیتے ہوئے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے.
ترجمان دفترخارجہ نے امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی گرفتاری کے تناظر میں جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے بحران کے خاتمے کیلئے تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زوردیتا ہے.
بیان کے مطابق تنازعات کے حل کیلئے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے، حکومت وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وینزویلا میں مقیم پاکستانی برادری کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں.
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس سمیت مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر امریکا منتقل کر دیا گیا.
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عدالتی حکم کے تحت عارضی طور پر صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے.
عالمی برادری کی جانب سے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی جارہی ہے۔ چین نے صدر مادورو کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ملائیشیا نے امریکی اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ فرانس نے کہا وینزویلا کا مستقبل صرف وہاں کے عوام طے کرسکتے ہیں ۔ اسپین کے وزیراعظم کا کہنا تھا امریکی مداخلت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے.
امریکا کی سابق نائب صدر کاملا ہیرس نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی ۔ کہتی ہیں ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا نہ محفوظ ہوا نہ مضبوط اور نہ ہی سستا.
ایرانی وزیر خارجہ نے وینزویلا کے ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا، یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے، مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے وینزویلا کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا۔ وینزویلا کی صورتحال پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس کل ہوگا.




