پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کا حکومت کو اصلاحات پر توجہ دینے کا مشورہ، جی ایس پی پلس سہولت خطرے میں پڑنے کا خدشہ
اسٹاف رپورٹ : پی این پی نیوز ایچ ڈی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور گورننس اصلاحات کے شعبوں میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت خطرے میں پڑ سکتی ہے.
کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور سال 2025 کے دوران پاکستان نے یورپی ممالک کو 8.7 ارب یورو کی برآمدات کیں، جن میں سے تقریباً 7 ارب یورو کی برآمدات جی ایس پی پلس سہولت کے تحت ممکن ہوئیں.
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان سے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور گورننس کے شعبوں میں مزید اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ موجودہ جی ایس پی پلس سہولت 2027 میں ختم ہو جائے گی اور آئندہ مرحلے میں اس کے حصول کے لیے مزید سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی.
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس کا حصول آسان نہیں تھا بلکہ اس کے لیے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقصد کے لیے سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ یورپی ممالک میں پاکستان کے حق میں لابنگ کی جا سکے.
سابق وزیر خارجہ کے مطابق سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور اور پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نے بھی جی ایس پی پلس کے حصول میں اہم کردار ادا کیا.
پی ٹی آئی رہنما نے اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق یورپی یونین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافتی تنظیموں کی جانب سے پیکا ایکٹ کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دیے جانے کے بعد یورپی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق آئینی عدالت میں دائر درخواستیں، جبری گمشدگیوں کے الزامات اور کمزور طرز حکمرانی کے معاملات بھی یورپی یونین کی توجہ کا مرکز ہیں۔.شاہ محمود قریشی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ان معاملات پر توجہ دے تاکہ پاکستان جی ایس پی پلس سہولت سے محروم ہونے کے خطرے سے بچ سکے.




