ٹیکنالوجی اور توانائی تجارت میں اضافہ، امریکا بھارت عبوری معاہدہ طے
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
امریکا اور بھارت کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے (Interim Trade Agreement) کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو وسعت دینا اور باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے.
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا اور بھارت ٹیکنالوجی مصنوعات کی تجارت میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ بھارت امریکی صنعتی اشیا پر عائد ٹیرف کم یا مکمل طور پر ختم کرے گا، جبکہ امریکی زرعی اور فوڈ مصنوعات کو بھارتی منڈی تک بہتر اور آسان رسائی فراہم کی جائے گی.
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بھارت امریکی آئی سی ٹی (Information and Communication Technology) مصنوعات پر درآمدی پابندیاں نرم کرے گا، جس سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھارتی مارکیٹ میں کاروبار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے بدلے امریکا بعض طیاروں اور ایئرکرافٹ پارٹس پر عائد ٹیرف ختم کرے گا، جس سے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے.
معاہدے کے تحت امریکا بھارت پر 18 فیصد ٹیرف نافذ کرے گا، تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک اس فریم ورک کو تجارتی توازن اور اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق بھارت آئندہ پانچ سال کے دوران امریکا سے 500 ارب ڈالر مالیت کی انرجی اور ٹیکنالوجی مصنوعات خریدے گا، جس میں ایل این جی، جدید توانائی ٹیکنالوجیز اور ہائی ٹیک آلات شامل ہوں گے.
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عبوری تجارتی فریم ورک مستقبل میں مکمل اور جامع تجارتی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے دونوں معیشتوں کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔ دوسری جانب بھارتی حکام نے بھی اس معاہدے کو دوطرفہ تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے.
ماہرین کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان اس تجارتی فریم ورک سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سپلائی چین میں دونوں ممالک کے کردار کو بھی تقویت ملے گی.




