فبای الاء ربکما تکذبان
سیدہ نمیرہ محسن شیرازی: پی این نیوز ایچ ڈی
صبح کے منظر جو اسے آج ودیعت ہو رہے تھے۔ پارکنگ کے ایک کونے پر دو سڑکوں کے سنگم کے عین بیچ۔ ڈھیروں گزرتی گاڑیوں کے درمیان گھاس کا ننھا قطعہ، پیلے گل مہر سے سجا، ایک منے سے زرد پھولوں والے درخت کو سینے سے لگائے مسکرا رہا تھا۔
دو مینائیں اس کے پاس چہل قدمی میں مصروف تھیں۔ اپنا رزق اپنی نرم چونچ سے گھاس کے نرم پتوں سے نکالتی ہوئیں۔ پس منظر میں پٹونیا کے کھلکھلاتے پھول اس گہماگہمی میں سورج کی کرنوں میں نہا رہے تھے۔ سامنے سمندر کے تین رنگ یک رنگی آسمان کے کناروں میں تحلیل ہو رہے تھے۔
سفید موتی رنگت والے سمندری بگلے نیلےنمکین پانی سے ڈبکیاں لگاتے، اڑانیں بھرتے رزق نکال رہے تھے۔ بالکل ویسے جیسے ہمارے کھارے، ناکارہ چند آنسو اللہ کے دربار سے عافیت مانگ لاتے ہیں۔
ہوا میں شفا ہی شفا تھی۔ اکا دکا بادلوں کے اجلے نرم پھاہے دل کی سرزمین پر گررہے تھے۔
ایک کبوتروں کے غول نے اس کی گاڑی کو گھیر لیا اور وہ وہیں کسی مجسمے کی مانند جم گئی ۔۔۔ اسے یوں لگا کہ باری تعالٰی نے سندیسہ بھیجا ہے” نہ گھبرا، میں تیرے ساتھ ہوں، تو ہماری نگاہ میں ہے اور میں دیکھ بھی رہا ہوں اور سن بھی رہا ہوں۔”
الحمدللہ، اس کا دل سجدہ ریز ہوگیا اپنے رب واحد کے حضور۔




