لیبیا کے سابق حکمران معمر القذافی کے بیٹے سيف الاسلام القذافی قتل
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
لیبیا کے سابق رہنما معمر القذافی کے بیٹے سيف الاسلام القذافی کو آج ان کے آبائی شہر زنتان میں قتل کر دیا گیا، تصدیق شدہ ذرائع اور سیاسی حلقوں نے اعلان کیا ہے.
لیبی ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں کے مطابق سيف الاسلام پر فائرنگ کا حملہ ان کے گھر پر کیا گیا، جہاں چار نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی کیمرے بند کیے اور بعد ازاں انہیں گولیاں مار کر فرار ہو گئے۔ سيف الاسلام کے سیاسی مشیر اور وکیل نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 53 سالہ سيف الاسلام شدید زخموں کے باعث موقع پر ہی ہلاک ہو گئے.
لیبیا کے نائب عام نے بھی واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں شواہد جمع کرنا، گواہوں کے بیانات اور دیگر قانونی کارروائی شامل ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکے.
سيف الاسلام القذافی کے سیاسی دفتر نے واقعے کو "غدارانہ اور بزدلانہ حملہ” قرار دیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کیمروں کی بندش اس کے الزام کے شواہد چھپانے کی کوشش تھی۔ ابتداء میں کچھ لیبی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سيف الاسلام کو اشتباک میں قتل کیا گیا، مگر بعد کی رپورٹس میں یہ منظر نامہ واضح ہوا کہ گھر میں ہی واردات انجام دی گئی.
سيف الاسلام قذافی، لیبیا کے مقتول سابق رہنما معمر القذافی کے سب سے معروف بیٹوں میں سے تھے۔ 2011 میں والد کے زوال کے بعد وہ محض سیاسی شخصیت ہی نہیں بلکہ تنازعہ کا باعث بھی رہے ہیں۔ انہیں عدالت نے 2015 میں جنگی جرائم کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی، مگر 2017 میں ایک معافی کے تحت رہا کر دیا گیا تھا.
انہوں نے 2021 میں صدارت کے لیے کاغذات بھی جمع کروائے تھے، لیکن قانونی اور سیاسی تنازعات کے سبب انتخابی عمل میں خلل آیا اور ان کی امیدواری رد ہو گئی تھی.
سيف الاسلام کے قتل نے لیبیا میں سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ کچھ سیاسی حلقے اور تجزیہ کار اس واقعے کو ملک کے مسلسل بدامنی اور عدم استحکام کا نیا ثبوت قرار دیتے ہیں۔ ابھی تک کسی گروپ یا شخص نے سرکاری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے.
یہ واقعہ لیبیا کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے، جہاں سیکولر، اسلامی اور قبائلی طاقتیں برسوں سے ملک کی سیاسی سمت کے لیے متحارب ہیں.




