آزاد کشمیر الیکشن 371

خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ

(تحریر۔ راجہ ارشد ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )
عیدالضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10 ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قرباں کہا جاتا ہے۔ حُجاج قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس، احرام، اتار دیتے ہیں۔

قربانی کا گوشت تین حصوں میں بانٹا جاتا ہے، جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔
قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے جسمانی نقص سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تلاش میں ہوتا ہے صحت مند اور خوبصورت بکرے، بھیڑ، دمبے، اونٹ یا بیل ہی خریدے۔
مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اور ایسے عید پر ایسے افراد اپنی پسند کے جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھر اکثر واپسی قربانی کے اپنے پسندیدہ جانور کے ساتھ ہوتی ہے
بڑے جانور کی قربانی میں سات افراد حصہ لے سکتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور کی قربانی ہر شخص کو الگ الگ کرنی پڑتی ہے۔ تاہم ایسے اجتماعی قربانی کی رسم ایسی ہے کہ جس میں اب بکرے کی قربانی میں بھی حصہ مل جاتا ہے۔
قربانی کے اہل جانور کا پتا اس کے دانت دیکھ کر بھی لگایا جاتا ہے۔ اگر اس کے دو بڑے دانت ہوں تو پھر اسے قربانی کے قابل سمجھا جاتا ہے ایسے جانور ’دوندا‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی دو دانتوں والا۔
جانور کو ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے کم سے کم اذیت پہنچے۔ عید پر جانور زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور کو زبح کرنے میں مہارت رکھنے والوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور کو زبح کرنے سے پہلے خوب کھلایا پلایا اور گھومایا پھرایا جاتا ہے۔
عیدالاضحیٰ پر جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر سنّت ابراہیمی ادا کرکے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہیں دوسری جانب گوشت کی تقسیم کے بعد مرحلہ آتا ہے مزے مزے کے چٹخارے دار پکوان کھانے اور بنانے کا۔

قربانی کے گوشت سے مختلف اقسام کے چٹ پٹےکھانے بنانے کا رواج گھروں میں تو عام ہے جہاں خواتین کھانوں کی تیاری کیلئے کچن میں جُت جاتی ہیں مگر اب ہوٹلوں اورپکوانوں کی دکانوں سے بھی ذائقے دار کھانے آرڈر پرتیار کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

عید الاضحٰی آ رہی ہے عید منائیں قربانی بھی کرئیں مگر یاد رکھیں کرونا کی چھوتھی لہر بھی آ رہی ہے حکومت کے بتائے ہوئے ایس او پس پے بھی عمل کریں

پچھلے سال بھی عوام کو جس طرح سمجھایا گیا تھا اس کے برعکس عوام نے کام کیا اور کسی بھی طرح کسی بھی ایس او، پی پر عمل نہیں کیا ۔ عید کے بڑے بڑے اجتماعات کیے گئے، لوگوں نے خوب ڈٹ کر سماجی دوری کا ستیاناس کیا  اور خوب محفلیں جمائیں  کیونکہ عید قربان میں لوگ زیادہ پارٹیاں کرتے ہیں گوشت کی فراوانی ہوتی  ہے، یوٹیوب سے ریسیپیز لی جاتی ہیں اور خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالتے ہیں ۔

چھوٹی عید اگر روزوں کے بعد انعام ہے تو بڑی عید ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے مگر اب یہ اسلامی تہوار ہماری اناؤں اور روئیوں کے باعث تہواروں کے موافق لگتے ہی نہیں ہیں ۔
ہر شخص سیر سے سوا سیر بن گیا ہے کوئی بھی کسی مسئلے پر سر جھکانے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے ۔
عیدوں پر جو خوشیاں ہوتیں تھیں اب وہ خاک ہوگئی ہیں ہر شخص اپنی خودنمائی اور خود پرستی کا شکار ہوگیا ہے انہیں دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔
اگر دیکھا جائے تو بڑی عید میں اصل قربانی باپ اور بیٹے کی گفتگو تھی۔اور دنبے کا ذبیحہ اس کا فدیہ تھا۔
ہمیں دنبہ تو یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی اس لیے ہماری عیدوں میں چاشنی نہیں رہی حالانکہ پہلے کی نسبت اب اچھے کپڑے اور جوتے پہنے جاتے ہیں مگر جس سے بھی پوچھا جائے وہ یہی کہتا ہے کہ عید کا مزہ نہیں رہا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں